ریاض( پاک ترک نیوز) سعودی عرب کی تیل برآمدات اکتوبر کے پہلے پندرہ روز میں اوسطاً 55 لاکھ 50 ہزار بیرل یومیہ رہیں، جو ایران اور امریکا کے درمیان فروری 2026 میں جنگ شروع ہونے کے بعد کسی بھی ماہ کی دوسری بلند ترین سطح بننے کی جانب گامزن ہیں۔
تیل کی ترسیل اور اجناس کے اعداد و شمار پر نظر رکھنے والے ادارے کے مطابق ستمبر میں سعودی عرب کی اوسط یومیہ تیل برآمدات 71 لاکھ 60 ہزار بیرل رہی تھیں، جو جنگ شروع ہونے کے بعد اب تک کی بلند ترین ماہانہ سطح تھی۔ رواں سال فروری میں یہ شرح 73 لاکھ 30 ہزار بیرل یومیہ ریکارڈ کی گئی تھی۔
اعداد و شمار کے مطابق خلیج عرب کے ساحل پر واقع راس تنورہ بندرگاہ سے اکتوبر کے پہلے نصف میں اوسطاً 29 لاکھ 80 ہزار بیرل تیل یومیہ برآمد کیا گیا، جبکہ ستمبر میں یہ شرح 41 لاکھ 60 ہزار بیرل یومیہ تھی۔
دوسری جانب بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع ینبع بندرگاہ سے اکتوبر کے پہلے پندرہ روز میں اوسطاً 23 لاکھ 40 ہزار بیرل تیل یومیہ برآمد ہوا، جبکہ ستمبر میں یہ مقدار 25 لاکھ 40 ہزار بیرل یومیہ تھی۔ دیگر بندرگاہوں سے بھی اوسطاً 2 لاکھ 29 ہزار بیرل تیل یومیہ برآمد کیا گیا۔
اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب اپنی تیل برآمدات کے راستوں میں لچک برقرار رکھے ہوئے ہے۔ مشرقی صوبے کو ینبع بندرگاہ سے ملانے والی مشرق تا مغرب تیل پائپ لائن کے ذریعے تیل کی ترسیل خلیج عرب سے بحیرہ احمر کی جانب منتقل کی جا سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی فوج کے لیے خصوصی مواصلاتی مصنوعی سیارہ 2028ء کے وسط میں خلا میں بھیجنے کا منصوبہ
رپورٹ کے مطابق اپریل اور مئی میں راس تنورہ بندرگاہ سے تیل کی برآمدات مکمل طور پر رک گئی تھیں، جس کے بعد سعودی تیل کی ترسیل کا تمام بوجھ ینبع بندرگاہ نے اٹھایا۔ جون میں ینبع سے تیل کی برآمدات بڑھ کر 42 لاکھ 90 ہزار بیرل یومیہ تک پہنچ گئیں، جو سعودی عرب کی مجموعی برآمدات کا تقریباً 93 فیصد تھیں۔ اس کے مقابلے میں فروری میں ینبع سے اوسطاً 8 لاکھ 15 ہزار بیرل تیل یومیہ برآمد کیا گیا تھا۔












