بیجنگ ( پاک ترک نیوز) سوچیے… ایک ایسی شخصیت جو انسان نہیں، لیکن اس کے پاس شناختی کارڈ ہے اس کا نام ہے، تاریخِ پیدائش ہے، پتہ ہے، چہرے کی شناخت ہے… اور اب وہ کاروبار بھی کرسکتی ہے!یہ سائنس فکشن نہیں… چین میں مصنوعی ذہانت سے بننے والے ڈیجیٹل انسان حقیقت کا روپ دھارنے لگے ہیں۔چین میں مصنوعی ذہانت کی دنیا نے ایک ایسا قدم اٹھا لیا ہے جس نے پوری دنیا کو حیران کردیا۔یوری نامی ڈیجیٹل شخصیت صرف ایک سال کی ہے، لیکن شنگھائی میں ہزاروں افراد نے اسے ایک بڑے پردے پر براہِ راست گاتے ہوئے دیکھا۔یوری انسان نہیں… بلکہ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ایک ورچوئل فنکار ہے۔
وہ گانے گا سکتی ہے، مداحوں سے رابطہ کرسکتی ہے اور لمحوں میں اپنا لباس بھی تبدیل کرسکتی ہے۔لیکن اصل حیرت یہاں سے شروع ہوتی ہے…یوری چین کی پہلی ڈیجیٹل شخصیت بن چکی ہے جسے سرکاری شناختی کارڈ جاری کیا گیا ہے!اس شناختی کارڈ پر اس کا نام، تاریخِ پیدائش، پتہ اور چہرے کے خدوخال درج ہیں۔
اب یوری صرف پردے پر نظر آنے والی مصنوعی شخصیت نہیں رہی…اس کے منتظمین اس کے نام پر ڈیجیٹل کرنسی کا بٹوہ کھول سکتے ہیں اور فیشن، کھیلوں اور گاڑیوں سمیت مختلف شعبوں میں تجارتی معاہدے بھی کرسکتے ہیں۔اور معاملہ صرف ایک یوری تک محدود نہیں۔چین میں ڈیجیٹل انسانوں کے شعبے سے وابستہ کمپنیوں کی تعداد 13 لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے۔نشریات، مختصر ڈرامے، برقی تجارت اور آن لائن تفریح… مصنوعی انسان تیزی سے حقیقی دنیا کے کاروبار میں داخل ہورہے ہیں۔لیکن اس ٹیکنالوجی کے ساتھ ایک بڑا سوال بھی کھڑا ہوگیا ہے…اگر مصنوعی انسان کی سرکاری شناخت بن سکتی ہے، کاروبار ہوسکتا ہے اور لاکھوں لوگ اسے اپنا سکتے ہیں… تو کل انسان اور مشین کے درمیان فرق کیسے کیا جائے گا؟











