
از: سہیل شہریار
پاکستان اپنے میری ٹائم سنچری اقدام (2047-2147) کے تحت 2047 تک 100 ارب ڈالر کی بلیو اکانومی کی تعمیر، تین نئی گہرے سمندرکی بندرگاہوں اور مصنوعی ذہانتسے چلنے والے میری ٹائم انڈسٹریل کمپلیکس، جہاز رانی کے بیڑے کو بڑھانے، جہازوں کی تیاری اور 100 فیصد گرین ڈیجیٹل پورٹس کو ملٹی ماڈل کنیکٹیویٹی کے ساتھ منظم کرنے کا منصوبہ بنا لیا ہے۔
منصوبے کی وضاحت کرتے ہوئےبحری امورکی وزارت کے ذرائع کہا کہ اینٹی گریٹڈ میری ٹائم انڈسٹریل کمپلیکس(آئی ایم آئی سی) کے بنیادی اجزاء میں سے ایک پورٹ قاسم کے لوہے اور کوئلے کی برتھ جیٹی کی بحالی اور اپ گریڈیشن ہے جو کئی سالوں سے ترک کر دی گئی ہے۔ ایک بار بحال ہونے پر جیٹی کو جہازوں کی ری سائیکلنگ اور مرمت کے لیے استعمال کیا جائے گا۔اور نتیجتاً یہ اسٹیل ملز کو بحال کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
عہدیدار نے کہا کہ آئی ایم آئی سی منصوبے کا تصور جہاز کی ری سائیکلنگ کو ملکی اسٹیل کی پیداوار سے جوڑنے کے لیے کیا گیا ہے۔ تاکہ درآمد شدہ خام مال پر نقدسرمائے کی کمی کا شکار ملک کے انحصار کو کم کیا جا سکے اور دوبارہ قابل استعمال اسکریپ کا فائدہ اٹھایا جا سکے ۔ انہوں نے کہا کہ منظوری کے بعدآئی ایم آئی سی پاکستان کی سب سے بڑی حالیہ سمندری اور صنعتی سرمایہ کاری میں شامل ہو جائے گا، جو پورٹ قاسم کو بھاری صنعت اور لاجسٹکس کے لیے ایک علاقائی مرکز میں تبدیل کر دے گا۔
بحری امور کی وزارت کےذرائع کے مطابق چینی سرمایہ کار پاکستان کے بندرگاہ کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کے خواہشمند ہیں۔ مگر تا حال سرمایہ کاری کی مجموعی مالیت کا درست تخمینہ نہیں لگایا جا سکتا۔انہوں نے انکشاف کیا کہ چین کے بین الاقوامی صنعتی گروپ شان ڈونگ زن سو سے اس حوالے سے مزاکرات حتمی مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔جس میں پہلے مرحلے میں 1.8ارب ڈالر اور مجموعی طور پر 2.37ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔
اس منصوبے کے تحت چینی گروپ تمام امور کو حتمی شکل دینے کے بعد پورٹ قاسم پر جہاز سازی اور جہاز کی دیکھ بھال کی سہولت تعمیر کریں گا اور پی ایس ایم میں جہاز سازی اور ری سائیکلنگ سے بچا ہوا سٹیل استعمال کریں گے۔اس حوالے سے توقع ہے کہ شان ڈونگ گروپ جلد ہی ایک جامع فزیبلٹی اسٹڈی فراہم کرے گا جس میں مالیاتی امورکے جائزے، ساختی اور ہائیڈرو گرافک تجزیے اور ممکنہ خدشات کی تشخیص شامل ہوں گی۔
وزارت بحری امور کے عہدیدار کے مطابق چینی منصوبہ جہاز سازی میں تقریبا 80کروڑ ڈالر او رآئی ایم آئی سی یا سمندر سے اسٹیل کے باقی منصوبے میں 54 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا منصوبہ ہے۔ عہدیدار نے جہازوں کی ری سائیکلنگ کو ملکی اسٹیل کی پیداوار کے ساتھ مربوط کرنے کے حکومتی اقدام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سرمایہ کاری کی رقم پورٹ پر 300,000 ٹن کے فرنس آئل پلانٹ کے قیام پر منحصر ہے۔






