اسلام آباد(پاک ترک نیوز)پاکستان مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل خدمات کے شعبے میں عالمی سطح پر اپنی جگہ بنا رہا ہے، جبکہ دوسری جانب ملک خطے کے انتہائی غریب افراد کی بڑی تعداد کا بوجھ بھی اٹھائے ہوئے ہے۔ عالمی بینک کی اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان مختلف آن لائن پلیٹ فارمز پر 2 ہزار 700 سے زائد مہارتوں کے شعبوں میں دنیا کے پانچ بڑے فراہم کنندگان میں شامل ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان کے خطے میں مصنوعی ذہانت سے متعلق خدمات فراہم کرنے والے اہم ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ مصر بھی اس درجہ بندی میں پاکستان کے ساتھ شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ہالی وڈ اداکار اور ہدایت کار بین ایفلک کی نئی سنسنی خیز فلم ’’اینیملز‘‘ ریلیز
عالمی بینک کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ہر سال تقریباً 75 ہزار طلبہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعلیم مکمل کرتے ہیں، جبکہ مالی سال 2026 میں اطلاعاتی و مواصلاتی ٹیکنالوجی کی خدمات کی برآمدات ریکارڈ 4 ارب 60 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں۔
پاکستان نے 2030 تک مصنوعی ذہانت کے شعبے کو فروغ دینے کے لیے ایک ارب ڈالر کے پروگرام کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس کے تحت مشترکہ کمپیوٹنگ سہولتیں، مقامی کثیرالسانی مصنوعی ذہانت کا نمونہ، ایک ہزار ڈاکٹریٹ وظائف اور غیر تکنیکی شعبوں سے تعلق رکھنے والے 10 لاکھ افراد کی تربیت شامل ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان ہر سال دو لاکھ افراد کو مصنوعی ذہانت کی تربیت دینے اور اعلیٰ تعلیم کے لیے 3 ہزار وظائف فراہم کرنے کا ہدف بھی رکھتا ہے۔
پاکستان خطے کی ان 14 معیشتوں میں شامل ہے جنہوں نے قومی مصنوعی ذہانت حکمتِ عملی جاری کی ہے۔ اس حکمتِ عملی میں زراعت کو اہم شعبہ قرار دیا گیا ہے، جہاں مصنوعی ذہانت کے ذریعے کھاد اور زرعی ادویات کے استعمال، آب پاشی، فصلوں کی پیداوار کے تخمینے، تجارت اور غذائی تحفظ کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
عالمی بینک کے مطابق پاکستان کی ڈیجیٹل بنیادی سہولتیں اس کی آمدنی کی سطح والے دوسرے ممالک کے مقابلے میں بہتر ہیں، تاہم جدت، نئی ٹیکنالوجی کی تیاری اور عالمی معیشت میں مؤثر شمولیت کے حوالے سے اب بھی کمزوریاں موجود ہیں۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت سے متعلق قوانین، ادارہ جاتی صلاحیت، جواب دہی اور نجی شعبے میں سرمایہ کاری کی کمی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔
خطے میں صرف 24 فیصد کاروباری ادارے اپنی مادی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے سرمایہ کاری کرتے ہیں، جبکہ 19 فیصد ادارے اپنے ملازمین کو باقاعدہ تربیت فراہم کرتے ہیں۔ عالمی بینک کے مطابق مصنوعی ذہانت سے معاشی فائدہ اٹھانے کے لیے نجی شعبے میں اصلاحات اور کارکنوں کی تربیت ضروری ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں مصنوعی ذہانت سے متعلق آن لائن سرگرمیوں میں گرافک ڈیزائن، مواد کی تیاری اور ترجمے جیسے شعبوں کا نمایاں حصہ ہے۔ عالمی آن لائن منڈیوں سے وابستگی پاکستانی آزاد پیشہ ور افراد کے لیے آمدنی کے مواقع پیدا کرتی ہے، لیکن مصنوعی ذہانت کے باعث بعض روایتی کاموں کی طلب کم ہونے کا خطرہ بھی موجود ہے۔
عالمی بینک کے تخمینے کے مطابق خطے میں تقریباً صفر سے 10 فیصد ملازمتیں خودکاری کے خطرے سے دوچار ہو سکتی ہیں، جبکہ 13 سے 20 فیصد ملازمتوں میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے کارکنوں کی صلاحیت اور پیداوار بڑھانے کی گنجائش موجود ہے۔
پاکستان میں اعلیٰ تعلیم یافتہ کارکنوں کو بھی تبدیلیوں کا سامنا ہو سکتا ہے، کیونکہ ان میں سے بہت سے افراد ایسے علمی اور پیشہ ورانہ کاموں سے وابستہ ہیں جن پر مصنوعی ذہانت اثر انداز ہو سکتی ہے۔
عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق خطے میں روزانہ تین ڈالر سے کم آمدنی پر زندگی گزارنے والے انتہائی غریب افراد میں سے تقریباً 48 فیصد پاکستان میں رہتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مالی سال 2019 سے مالی سال 2025 کے دوران پاکستان میں روزانہ تین ڈالر کی آمدنی کی حد پر غربت کی شرح میں 6.4 فیصد پوائنٹس، جبکہ 4.20 ڈالر کی حد پر 3.2 فیصد پوائنٹس اضافہ ہوا۔
عالمی بینک نے اس اضافے کی وجوہات میں کورونا وبا، 2022 کے تباہ کن سیلاب، بلند مہنگائی، روپے کی قدر میں کمی اور معاشی مشکلات کے باعث حقیقی آمدنی اور روزگار میں کمی کو شامل کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق خطے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے بھی گھریلو آمدنی پر دباؤ بڑھایا ہے۔ پاکستان میں پٹرول کی قیمتوں میں تنازع شروع ہونے کے بعد 40 فیصد یا اس سے زیادہ اضافے کا ذکر کیا گیا ہے، جبکہ ڈیزل کی قیمتوں میں بھی 40 فیصد سے زیادہ اضافہ رپورٹ کیا گیا۔
عالمی بینک نے مالی سال 2026 میں پاکستان کی معاشی ترقی کی شرح 3.7 فیصد رہنے کا تخمینہ دیا ہے، جو مالی سال 2025 کی 3.2 فیصد شرح سے زیادہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق خدمات، صنعتی پیداوار اور مویشی بانی کے شعبوں میں سرگرمیاں معاشی ترقی کو سہارا دے سکتی ہیں، تاہم ایندھن اور نقل و حمل کی بلند قیمتیں مہنگائی اور بیرونی ادائیگیوں کے توازن پر دباؤ برقرار رکھ سکتی ہیں۔ عالمی بینک نے خبردار کیا ہے کہ تیل اور دیگر بنیادی اشیا کی قیمتوں میں مزید اضافہ پاکستان کے لیے مہنگائی، مالی وسائل اور بیرونی قرضوں کے حصول کے اخراجات سے متعلق مشکلات بڑھا سکتا ہے۔ خلیجی ممالک میں سیاحت، تعمیرات اور متعلقہ خدمات کی طویل سست روی سے ترسیلاتِ زر بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔












