
از: سہیل شہریار
غزہ کے عوام پر مظالم کے پہاڑ توڑنے میں محو اسرائیلی حکومت کو بین الاقوامی دباؤ کے ساتھ اب اندرون ملک اور دنیا بھر سے یہودیوں کی جانب سے بھی دباؤ کا سامنا کرناپڑ رہا ہے۔ ساتھ ہی امریکی اور اسرائیلی میڈیانے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیلی حکومت اب پورے غزہ پر قبضے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔
تازہ ترین پیش رفت میںاکتیس ہائی پروفائل اسرائیلیوں نے غزہ میں اسرائیلی سفاکانہ مہم پر شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئےایک خط میں مستقل جنگ بندی کے مطالبے کے ساتھ غزہ کی غذائی قلت پر اسرائیل پرسخت ترین پابندیاں عائد کرنےکا مطالبہ کیا ہے۔
نامور اسرائیلی شخصیات کے اس گروپ میں ماہرین تعلیم، فنکار اور دانشور شامل ہیں۔ برطانوی اخبار دی گارڈین کو لکھے گئے خط کے 31 دستخط کنندگان میں اکیڈمی ایوارڈ یافتہ یوول ابراہم۔ سابق اسرائیلی اٹارنی جنرل، مائیکل بین یائیر۔ اسرائیل کی پارلیمنٹ کے سابق اسپیکر اور یہودی ایجنسی کے سابق سربراہابراہم برگ اور ا سرائیل کا سب سے بڑا ثقافتی اعزاز۔باوقار اسرائیل انعام کے متعدد وصول کنندگان شامل ہیں۔
خط میں اسرائیل پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ غزہ کے لوگوں کو بھوک سے مرنے اور لاکھوں فلسطینیوں کو جبری طور پر پٹی سے نکالنے کے بارے میں سوچ رہا ہے۔اس لئے بین الاقوامی برادری کو اسرائیل پر سخت پابندیاں عائد کرنی چاہئیں جب تک کہ وہ اس ظالمانہ مہم کو ختم نہیں کرتا اور مستقل جنگ بندی کا نفاذ نہیں کرتا۔
خط کے دیگر دستخط کنندگان میں مصور میشل نعمان ہیں۔ راعان الیگزینڈروچز، ایک ایوارڈ یافتہ دستاویزی فلم ساز؛ گولڈن لائین جیتنے والی فلم لبنان کے ڈائریکٹر سیموئل ماوز؛ شاعر ہارون شبتائی اور کوریوگرافر انبال پنٹو نمایاں ہیں
https://www.youtube.com/shorts/pGEFyp5s9M8
غزہ میں اسرائیل کی جنگ کی بڑھتی ہوئی ہولناکی پر تنقید اور اسکے فوری خاتمے کا مطالبہ خود اسرائیل کے اندر اور وسیع تر عالمی یہودی ڈائی ا سپورا کے اندر کمزور فلسطینی بچوں کی تصویروں اور خوراک کی تقسیم کے مراکز پر بھوکے فلسطینیوں پر اسرائیلی فورسز کی فائرنگ کے ویڈیو کلپس کے وائرل ہونے کے ساتھ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
مگریہ خط اس وقت شائع کیا گیا ہے جب میڈیا رپورٹس بتا رہی ہیں کہ اسرائیلی وزیر اعظم انتہا پسند یہودی اتحادیوں کو خوش کر کے اپنی حکومت بچانے کے لئے غزہ کی پوری پٹی پر ایک مرتبہ پھر قبضے کا منصوبہ بنا رہے ہیں ۔جس کی اسرائیلی فوج کی جانب سے پہلے ہی مخالفت کی جا چکی ہے۔
ایسے معلوم ہوتا ہے کہ اس منصوبے کو امریکی آشیرباد بھی حاصل ہے ۔اور شاید عرب ملکوں کی رضامندی بھی ۔ کیونکہ امریکہ کی ریپبلکن پارٹی کے سینیٹر لنڈسے گراہم نے امریکی ٹی وی پر کہا ہےکہ مزاکرات کا دروازہ بند ہونے کے بعدحماس کے ساتھ اپنی جنگ میں اسرائیل نے ایک نئی حکمت عملی وضع کی ہے۔ اسرائیل اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ وہ حماس کے ساتھ جنگ بندی سےایسا نتیجہ حاصل نہیں کر سکتا جو اسرائیل کی حفاظت کے لیے تسلی بخش ہو۔ چنانچہ وہ غزہ میں وہی کرنے جا رہے ہیں جو ہم نے ٹوکیو اور برلن میں کیاتھا۔ یعنی اس جگہ کو طاقت سے حاصل کریں۔ پھر فلسطینیوں کے لیے ایک بہتر مستقبل پیش کرتے ہوئے معاملات دوبارہ شروع کریں۔ اور امید ہے کہ اسکے بعد عرب ممالک مغربی کنارے اور غزہ کے امور کو سنبھال لیں گے۔












