
از: سہیل شہریار
اسرائیلی فوج کے چیف آف سٹاف ایال زامیر نے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو ایک براہ راست پیغام بھیجا ہے جس میں انہوں نے غزہ کی پٹی میں یرغمال بنائے گئے افراد کی رہائی کے لیے موجودہ دستیاب موقع سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
اسرائیلی چیف آف سٹاف نے کہا ہے کہ غزہ پر مکمل قبضے کی طرف کوئی بھی قدم یرغمالیوں کی زندگیوں کو شدید خطرے میں ڈال دے گا۔ آپریشنل اور سکیورٹی وجوہات کی بنا پر اس مسئلے سے انتہائی احتیاط کے ساتھ نمٹنا ضروری ہے۔
https://www.youtube.com/watch?v=lSHS-HlFlAk
انہوں نے اپنے پیغام میں واضح کیا کہ فوج گزشتہ مہینوں میں زمینی اور سکیورٹی کے ایسے سازگار حالات پیدا کرنے میں کامیاب رہی ہے جو ایک ڈیل کو ممکن بنا سکتے ہیں۔ انہوں نے سیاسی قیادت سے اس لمحے سے فائدہ اٹھانے اور اسے ضائع نہ کرنے کی اپیل کی۔
اسرائیلی وزیر اعظم پر غزہ کی پٹی میں باقی ماندہ یرغمالیوں کی رہائی کو یقینی بنانے اور فوج کے غزہ شہر پر حملے سے پہلے جنگ بندی تک پہنچنے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔ اور اس حوالے سےملک کے اندر اور باہر بڑے مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو کی حکومت کے دائیں بازو کے ارکان حماس کے ساتھ کسی بھی معاہدے تک پہنچنے کی سخت مخالفت کر رہے ہیں۔ دائیں بازو کے وزیر خزانہ سموٹریچ نے یرغمالیوں کے رشتہ داروں سے کہا ہے کہ اگر نیتن یاہو جنگ بندی پر راضی ہو جاتے ہیں تو وہ حکمران اتحاد سے باہر آ جائیں گے۔
مزید براںایک متبادل حل کے طور پر ایک نمایاں اسرائیلی اپوزیشن شخصیت اور سابق وزیر دفاع بینی گانٹز نے یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کو ممکن بنانے کے لیے چھ ماہ کے لیے قومی حکومت بنانے کی تجویز پیش کی ہے۔مبصرین کے مطابق نیتن یاہو کے اس تجویز کو قبول کرنے کا امکان نہیں ہے کیونکہ وہ اپنی سیاسی بقا کے لیے سموٹریچ جیسے دائیں بازو کے شراکت داروں کی حمایت پر انحصار کر رہے ہیں۔
کہا جاتا ہےکہ جنگ بندی کی نئی تجویز امریکی خصوصی نمائندے سٹیو وٹکوف کیطرف سے پہلے کی تجویز کا ایک ترمیم شدہ ورژن ہے۔ اس نئی تجویز میں 60 دن کی جنگ بندی کی شرط ہے جس کے دوران 10 زندہ یرغمالیوں کو فلسطینی قیدیوں کے بدلے میں رہا کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ50 یرغمالیوں میں سے 20 یا زیادہ تا حال زندہ ہیں۔












