وینکوور (پاک ترک نیوز)
انڈیا اور کینیڈا کے درمیان سفارتی تعلقات بحال ہونے کے بعد خالصتان حامی تنظیم ’سکھس فار جسٹس‘ نے وینکوور میں انڈین قونصل خانے کا محاصرہ کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ یہ قونصل خانہ علیحدگی پسند سکھوں کے خلاف جاسوسی اور نگرانی کا نیت ورک چلا رہا ہے
بھارتی میڈیاکے مطابق امریکہ میں قائم خالصتان کے حامی گروپ سکھ فار جسٹس (ایس ایف جے) نے تمام بھارتی نژاد کینیڈینز سے قونصل خانے کا دورہ ملتوی کرنے کی اپیل کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ جمعرات کو قونصل خانے کا کنٹرول سنبھال لیں گے۔
سکھ تنظیم نے حال ہی میں تعینات ہونے والے انڈین ہائی کمشنر دنیش پٹنائیک کا ایک پوسٹر بھی جاری کیا ہے جس میں انہیں امریکہ اور کینیڈا میں علیحدگی پسند سکھوں کے خلاف بھارتی حکومت کے جاسوسی نیٹ ورک کا سرغنہ قرار دیتے ہوئے ان چہرے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
ایس ایف جے نے اپنے نئے بیان میں الزام عائد کیا ہے کہ انڈین قونصل خانہ جاسوسی اور نگرانی کا نیٹ ورک چلا رہا ہے جس کے تحت خالصتان کے حامیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔جس کی نشاندہی دو سال قبل سابق وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے پارلیمان میں کی تھی اور اب دو سال بعد بھی انڈین قونصل خانہ خالصتان ریفرنڈم مہم چلانے والوں کو نشانہ بنانے کے لیے جاسوسی کا نیٹ ورک چلا رہا ہے اور نگرانی جاری رکھے ہوئے ہے۔
گروپ نے الزام عائد کیا کہ ان کے لیے خطرہ اس قدر سنگین ہے کہ رائل کینیڈین پولیس کو اندرجیت سنگھ گوسل کو تحفظ فراہم کرنا پڑا تھا جنہوں نے نجار کی موت کے بعد خالصتان ریفرنڈم مہم کی قیادت سنبھالی تھی۔








