لاہور: (پاک ترک نیوز)عمارتوں میں لگنے والی آگ چند لمحوں میں جان لیوا حادثے میں بدل سکتی ہے۔ آگ زیادہ تر شارٹ سرکٹ، گیس لیکیج یا آتش گیر سامان کے غیر محفوظ ذخیرے کی وجہ سے شروع ہوتی ہے۔
پاکستان کی زیادہ تر عمارتوں میں حفاظتی ضوابط کی غیر موجودگی اور آگ سے بچاؤ کی مشقوں کا فقدان ایسے سانحات کو مزید خطرناک بنا دیتا ہے۔ زیادہ تر اموات دھوئیں اور زہریلی گیسوں کے باعث ہوتی ہیں۔ دھواں نظر دھندلا دیتا ہے اور سانس لینا مشکل کر دیتا ہے۔سوال یہ ہے کہ خدانخواستہ اگر آپ ایسی سچویشن میں پھنس جائیں تو کیا کریں؟آئیے آپ کو بتاتے ہیں۔
آگ کا الارم سنائی دے یا دھوئیں کی بو محسوس ہو تو ایک لمحہ ضائع کیے بغیر اردگرد موجود لوگوں کو آواز دے کر خبردار کریں اور ممکن ہو تو دستی الارم بجائیں۔
کسی کمرے سے باہر نکلنے سے قبل دروازے کو ہاتھ کے پچھلے حصے سے چھو کر دیکھیں، اگر دروازہ غیر معمولی گرم ہو تو سمجھ جائیں کہ دوسری جانب آگ بھڑک رہی ہے۔
گیلے رومال یا کپڑے سے منہ اور ناک ڈھانپ لیں تاکہ دھواں کم اندر جائے اور سانس لینے میں قدرے آسانی رہے۔
تیزی سے دوڑنے کے بجائے جھک کر یا گھٹنوں کے بل رینگتے ہوئے آگے بڑھیں تاکہ سانس کے مسائل اور بے ہوشی کا خطرہ کم سے کم رہے۔
آگ کے دوران لفٹ کا استعمال نہایت خطرناک ہوتا ہے۔ ہر صورت سیڑھیاں استعمال کریں۔اگر سیڑھیوں تک رسائی ممکن نہ رہے تو بالکونی یا کھڑکی آپ کے لیے عارضی محفوظ مقام بن سکتی ہے۔
چھت نسبتاً محفوظ ہو سکتی ہے، کیونکہ دھواں عموماً اوپر جمع ہوتا ضرور ہے لیکن کھلی فضاء میں تیزی سے منتشر بھی ہوتا رہتا ہے۔یاد رکھیں بند عمارت میں آگ کے دوران چند منٹوں میں کیے گئے درست فیصلے انسان کو ہلاکت خیز سانحے سے بچا لیتے ہیں، جبکہ لاپرواہی، گھبراہٹ اور حفاظتی اصولوں سے لاعلمی المیے کو کئی گنا بڑھا دیتی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ذمہ دار شہری آگ سے تحفظ کے ان سادہ مگر فیصلہ کن اصولوں کو نہ صرف خود سیکھیں بلکہ دوسروں تک بھی پہنچائیں، تاکہ کسی بھی حادثے کی صورت میں زیادہ سے زیادہ جانیں محفوظ رہ سکیں۔












