لاہور( پاک ترک نیوز) سورج آگ برسا رہا ہو، درجہ حرارت پچاس کے قریب پہنچ جائے اور نل سے ابلتا ہوا پانی نکلے تو ہر گھر میں ایک ہی سوال اٹھتا ہے۔۔۔ آخر پانی کی ٹینکی کو ٹھنڈا کیسے رکھا جائے؟گرمیوں میں چھت پر رکھی پانی کی ٹینکیاں تپتی دھوپ کی وجہ سے اتنی گرم ہوجاتی ہیں کہ پانی نہانے، پینے اور گھریلو استعمال کے قابل بھی نہیں رہتا۔لیکن چند آسان تدابیر اپنا کر ٹینکی کے پانی کو کافی حد تک ٹھنڈا رکھا جاسکتا ہے۔
گرمیوں کے موسم میں چھت پر نصب پانی کی ٹینکیاں براہ راست سورج کی تپش برداشت کرتی ہیں، جس کی وجہ سے پانی کا درجہ حرارت تیزی سے بڑھ جاتا ہے۔ماہرین کے مطابق اگر ٹینکی کو مناسب طریقے سے ڈھانپ لیا جائے اور دھوپ سے بچایا جائے تو پانی کافی حد تک ٹھنڈا رکھا جاسکتا ہے۔
ٹینکی کے اوپر گرین شیڈ ،لوہے یا بانس کا شیڈ بنائیں ،کپڑا یا ترپال ڈالیں ،ماہرین کے مطابق پانی کی ٹینکی کو ٹھنڈا رکھنے کا سب سے مؤثر طریقہ اس پر شیڈ لگانا ہے۔۔اگر ٹینکی براہ راست دھوپ سے محفوظ رہے تو پانی زیادہ گرم نہیں ہوتا۔گھر کی چھت پر لوہے، بانس یا گرین نیٹ کا سایہ بنایا جاسکتا ہے۔
کالی ٹینکیاں گرمی زیادہ جذب کرتی ہیں جبکہ سفید یا ہلکے رنگ کی ٹینکیاں کم گرم ہوتی ہیں۔ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ ٹینکی پر سفید رنگ یا ریفلیکٹو کوٹنگ کی جائے تاکہ سورج کی شعاعیں واپس منعکس ہوسکیں۔
دیہی علاقوں میں آج بھی ایک سادہ اور مؤثر طریقہ استعمال کیا جاتا ہے۔ٹینکی پر گیلی بوری یا موٹا کپڑا لپیٹ دیا جاتا ہے، جو ہوا کے ساتھ نمی پیدا کرکے پانی کو نسبتاً ٹھنڈا رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے اگر ممکن ہو تو ٹینکی کو ایسی جگہ نصب کریں جہاں دن کے کچھ حصے میں سایہ موجود ہو۔دیوار یا واٹر ٹینک روم کے قریب رکھی گئی ٹینکی کم گرم ہوتی ہے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ زیرزمین پانی کے ٹینک نسبتاً ٹھنڈے رہتے ہیں کیونکہ زمین کی تہہ سورج کی حرارت کو کم جذب کرتی ہے۔اسی لیے کئی گھروں میں انڈر گراؤنڈ ٹینک کا استعمال بڑھ رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق موسمی شدت میں اضافے کے باعث شہری علاقوں میں پانی کی ٹینکیاں پہلے سے زیادہ گرم ہورہی ہیں، اس لیے گھروں کی تعمیر اور واٹر اسٹوریج کے نظام میں تبدیلی وقت کی اہم ضرورت بنتی جارہی ہے۔
شدید گرمی میں ٹھنڈا پانی صرف آرام ہی نہیں بلکہ صحت کے لیے بھی ضروری ہے۔
اگر چند آسان احتیاطی تدابیر اپنا لی جائیں تو چھت پر رکھی پانی کی ٹینکی کو بھی گرمی کی شدت سے کافی حد تک محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔








