کراچی ( پاک ترک نیوز) کراچی کے پوش علاقوں سے یونیورسٹیوں کے اطراف تک پھیلا منشیات کا خطرناک نیٹ ورک۔۔۔اور اس نیٹ ورک کے مرکز میں ایک نام ہے انمول عرف پنکی،کوکین، آئس، آن لائن آرڈرز، رائیڈرز کے ذریعے سپلائی اور شاہانہ لائف اسٹائل۔۔ملزمہ کی گرفتاری کے بعد تہلکہ خیز انکشافات سامنے آ گئے سوال یہ ہے کہ آخر یہ نیٹ ورک کتنے عرصے سے چل رہا تھا۔۔۔؟ اور کون کون اس کے پیچھے موجود ہے۔۔۔؟
کراچی میں گرفتار منشیات فروش ملزمہ انمول عرف پنکی کے گرد گھیرا تنگ ہونے لگا۔۔۔تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ پنکی صرف کراچی ہی نہیں بلکہ لاہور، اسلام آباد اور راولپنڈی تک آئس اور کوکین سپلائی کرتی تھی۔۔۔ذرائع کے مطابق ملزمہ کو آن لائن آرڈرز موصول ہوتے تھے۔۔۔اور پھر اپنے مخصوص رائیڈرز کے ذریعے منشیات خفیہ انداز میں مختلف علاقوں تک پہنچائی جاتی تھی۔۔۔تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ منشیات افغانستان اور بلوچستان کے راستے کراچی لائی جاتی تھی۔۔۔اور پھر پوش علاقوں، پارٹی سرکٹس اور تعلیمی اداروں کے اطراف فروخت کی جاتی تھی۔۔۔پولیس ریکارڈ کے مطابق انمول عرف پنکی سن 2021 سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب تھی۔۔۔اور اس کے خلاف ایک یا دو نہیں بلکہ دس مقدمات درج تھے۔۔۔
تحقیقات میں ملزمہ کی ذاتی زندگی سے متعلق بھی حیران کن تفصیلات سامنے آئیں۔پولیس کے مطابق پنکی کا پہلا شوہر بھی منشیات کے دھندے سے وابستہ تھا۔دونوں کے درمیان جھگڑوں کے بعد طلاق ہوئی جبکہ سابق شوہر بعد میں ملائشیا فرار ہوگیا۔
اب کراچی، لاہور اور اسلام آباد سے گرفتار دیگر منشیات فروشوں سے بھی تفتیش کا دائرہ وسیع کیا جا رہا ہے۔
لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔۔۔عدالت پیشی کے دوران انمول عرف پنکی کو ملنے والے مبینہ شاہانہ پروٹوکول نے بھی نیا تنازع کھڑا کر دیا۔۔۔ویڈیوز منظرعام پر آئیں تو سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا۔۔۔آئی جی سندھ اور کراچی پولیس چیف نے فوری نوٹس لیا، ایس ایچ او گارڈن حنیف سیال، آئی او سعید احمد اور ایس آئی یو انسپکٹر ظفر اقبال کو عہدوں سے ہٹا دیا گیا۔
دو لیڈی کانسٹیبلز بھی معطل کردی گئیں۔۔۔واقعے کی انکوائری ایس ایس پی ساؤتھ کے سپرد کر دی گئی ہے جبکہ پندرہ روز میں رپورٹ طلب کر لی گئی۔
ادھر کیس میں ایک اور چونکا دینے والا موڑ بھی سامنے آیا۔۔۔پولیس نے مقدمے میں جس فلیٹ کا پتہ درج کیا، وہاں رہائش پذیر خاندان نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ گزشتہ آٹھ برس سے اس فلیٹ میں رہ رہے ہیں اور انمول عرف پنکی کو جانتے تک نہیں۔
خاندان کے مطابق گرفتاری کی خبر آنے کے بعد مالک مکان نے فلیٹ خالی کرنے کا کہہ دیا۔۔۔اور اب وہ پولیس کی مبینہ غفلت کے باعث شدید ذہنی اذیت کا شکار ہیں۔
پولیس نے انمول عرف پنکی کے خلاف اسلحہ برآمدگی کا مقدمہ بھی درج کر لیا ہے۔۔۔ایف آئی آر کے مطابق گارڈن ویسٹ میں ملزمہ کے قبضے سے پستول برآمد ہوا۔
تاہم سوال اب بھی وہی ہے۔۔۔کیا یہ صرف ایک خاتون کا نیٹ ورک تھا۔۔۔؟یا پھر اس کے پیچھے بااثر کرداروں کی پوری زنجیر موجود ہے۔۔۔؟کراچی میں منشیات کے اس ہائی پروفائل کیس نے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔۔۔آخر آن لائن منشیات نیٹ ورک اتنے عرصے تک کیسے چلتا رہا۔۔۔؟کس کی سرپرستی حاصل تھی۔۔۔؟اور کیا اس کارروائی کے بعد ملک بھر میں منشیات کے بڑے نیٹ ورکس بے نقاب ہوں گے۔۔۔؟فیصلہ آنے والے دنوں کی تحقیقات کریں گی۔۔۔ مگر اس کیس نے شہر قائد میں خوف، تشویش اور کئی رازوں کو بے نقاب ضرور کر دیا ہے۔







