ابوجا: (پاک ترک نیوز) نائجیریا کی مغربی اور شمالی ریاستوں میں مسلح افراد کے حملوں میں تقریباً 200 افراد ہلاک ہو گئے، جبکہ زندہ بچ جانے والے افراد لاشوں کی تدفین اور سکیورٹی فورسز حملہ آوروں کی تلاش میں مصروف ہیں۔
مغربی ریاست کوارا میں منگل کی شام مسلح افراد نے وورو نامی قصبے پر دھاوا بول دیا، جہاں کم از کم 170 افراد کو قتل کر دیا گیا۔
مقامی قانون ساز کے مطابق حملہ آوروں نے شہریوں کو جمع کر کے ان کے ہاتھ باندھے اور بعد ازاں گولیاں مار کر قتل کیا۔
ادھر شمالی ریاست کاتسینا میں بھی مسلح افراد نے گھروں میں گھس کر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں کم از کم 21 افراد جان سے گئے۔کوارا میں ہونے والا یہ حملہ حالیہ مہینوں میں خطے کا سب سے خونریز واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ واقعات نائجیریا کو درپیش سنگین سکیورٹی بحران کے پس منظر میں پیش آئے ہیں، جہاں شمال مشرق میں بوکو حرام اور داعش سے منسلک گروہوں کی سرگرمیاں جاری ہیں، جبکہ شمال مغربی اور وسطی علاقوں میں اغوا برائے تاوان کے واقعات میں بھی تیزی آئی ہے۔
کوارا میں حملے کی ذمہ داری تاحال کسی گروہ نے قبول نہیں کی۔ علاقے کے رکنِ اسمبلی سعیدو بابا احمد نے بتایا کہ حملے کے دوران دیہاتی جان بچانے کے لیے قریبی جنگلات میں فرار ہو گئے، جبکہ حملہ آوروں نے گھروں اور دکانوں کو آگ لگا دی۔
پولیس نے تصدیق کی کہ بڑی تعداد میں افراد ہلاک ہوئے ہیں، تاہم حتمی اعداد جاری نہیں کیے گئے۔ کوارا پولیس کے مطابق پولیس اور فوج کو مشترکہ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کے لیے علاقے میں تعینات کر دیا گیا ہے۔
مقامی ٹی وی چینلز کی فوٹیج میں لاشیں خون میں لت پت زمین پر پڑی دکھائی دیں، جن میں سے بعض کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے، جبکہ کئی گھروں میں آگ لگی ہوئی تھی۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک بیان میں کہا کہ حملہ آوروں نے 170 سے زائد افراد کو قتل کیا، گھروں کو نذرِ آتش کیا اور دکانیں لوٹ لیں۔
تنظیم کے مطابق مسلح افراد گزشتہ پانچ ماہ سے دیہاتیوں کو دھمکی آمیز خطوط بھیج رہے تھے، جبکہ سکیورٹی ناکامیاں ناقابلِ قبول ہیں۔
کوارا کے گورنر عبد الرحمن عبد الرزاق نے اس حملے کو ریاست میں جاری فوجی کارروائیوں کے خلاف دہشت گرد گروہوں کی "مایوس کن اور بزدلانہ کارروائی” قرار دیا۔
فوج کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں دہشت گرد عناصر کے خلاف مسلسل آپریشن کیے گئے ہیں، جن میں درجنوں جنگجو مارے گئے۔
دوسری جانب کاتسینا میں ہونے والے حملے نے مسلح گروہوں اور مقامی آبادی کے درمیان چھ ماہ پرانا امن معاہدہ توڑ دیا ہے۔ وہاں حملہ آور گھر گھر جا کر فائرنگ کرتے رہے۔







