تہران/واشنگٹن : (پاک ترک نیوز)ایران نے تصدیق کی ہے کہ اس کے اور امریکا کے درمیان جوہری پروگرام سے متعلق اہم مذاکرات جمعہ کے روز سلطنتِ عمان کے دارالحکومت مسقط میں منعقد ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق یہ مذاکرات جمعہ کی صبح 10 بجے (پاکستانی وقت کے مطابق صبح 6 بجے) شروع ہوں گے۔
عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ وہ عمانی حکومت کے شکر گزار ہیں جس نے مذاکرات کے انعقاد کے لیے تمام ضروری انتظامات مکمل کیے۔
ان کا کہنا تھا کہ بات چیت کے مقام اور طریقہ کار پر اختلافات کے باعث مذاکرات کے التوا کی اطلاعات گردش کر رہی تھیں، تاہم اب شیڈول کی باضابطہ تصدیق ہو چکی ہے۔
اس سے قبل ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی سوشل میڈیا پر ایک پیغام میں وزیر خارجہ کو ہدایت دی تھی کہ امریکا کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں منصفانہ اور متوازن مؤقف اپنایا جائے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے ایک اعلیٰ اہلکار نے امریکی خبر رساں ادارے کے حوالے سے تصدیق کی ہے کہ امریکا ان اعلیٰ سطحی مذاکرات میں شرکت کرے گا، تاہم بات چیت ترکیہ کے بجائے عمان میں ہوگی، جیسا کہ پہلے منصوبہ بنایا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق قطر، ترکیہ اور مصر کے ثالثوں نے ایران اور امریکا کو ایک ابتدائی فریم ورک پیش کیا ہے، جس میں ایران کی جانب سے یورینیم افزودگی میں نمایاں کمی، بیلسٹک میزائلوں کے استعمال پر پابندی اور خطے میں اتحادی گروہوں کو اسلحہ فراہم کرنے سے متعلق نکات شامل ہیں۔
ان ذرائع میں ایک سینئر سفارت کار بھی شامل ہے، جس نے مذاکرات کی حساس نوعیت کے باعث نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر معلومات فراہم کیں۔یہ مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ ایران میں مظاہرین کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کے بعد امریکی افواج کو بحیرۂ عرب میں تعینات کرنے کے احکامات دیے، جس سے ممکنہ امریکی حملے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ واشنگٹن ایران کے جوہری پروگرام کے علاوہ بیلسٹک میزائل، خطے میں نیٹ ورک کی حمایت اور ایران میں انسانی حقوق کی صورتحال پر بھی بات کرنا چاہتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کی مذہبی قیادت عوام کی حقیقی نمائندہ نہیں اور عوام اور حکمرانوں کے درمیان واضح خلیج موجود ہے۔
یاد رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان 1980 سے سفارتی تعلقات منقطع ہیں، تاہم ماضی میں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی روابط بحال کرنے کی متعدد کوششیں کی جا چکی ہیں۔
گزشتہ سال جون میں بھی مسقط میں مذاکرات ہوئے تھے، لیکن اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد یہ عمل تعطل کا شکار ہو گیا تھا، جبکہ بعد ازاں امریکا نے بھی ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔












