کراچی ( پاک ترک نیوز) گرینڈ ہیلتھ الائنس نے محکمہ صحت کی پالیسیوں اور ہیلتھ کیئر ورکرز کو درپیش مسائل کے خلاف اکتوبر سے احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کردیا۔ینگ ڈاکٹرز، پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن اور مختلف پیرامیڈیکل تنظیموں نے مشترکہ طور پر احتجاجی تحریک شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔گرینڈ ہیلتھ الائنس کے مطابق احتجاج کے پہلے مرحلے میں پرائمری اور ثانوی صحت کی سہولیات بند کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔
اتحاد نے مطالبہ کیا ہے کہ پی پی ایچ آئی کے حوالے کیے گئے پرائمری ہیلتھ کیئر مراکز واپس سرکاری نظام میں لائے جائیں اور ان مراکز کا انتظام مینجمنٹ کیڈر اور جنرل کیڈر کے ڈاکٹروں کے سپرد کیا جائے۔گرینڈ ہیلتھ الائنس نے مطالبہ کیا کہ ضلعی ہیلتھ افسران اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹس کو مالی اختیارات دیے جائیں تاکہ صحت کے مراکز کے بجٹ بروقت جاری ہوسکیں۔
یہ بھی پڑھیں: جدید سینسرز اور ہتھیاروں سے لیس ایس یو 57 لڑاکا طیاروں کی نئی کھیپ روسی فضائیہ کے حوالے
گرینڈ ہیلتھ الائنس کا کہنا ہے کہ ہنگامی طبی امداد کے مراکز کو بروقت اور مناسب بجٹ، ضروری ادویات، طبی آلات اور آن لائن بجٹ کی سہولت فراہم کی جائے۔ڈاکٹرز، نرسز اور پیرامیڈیکس کو مکمل سکیورٹی، محفوظ اور بہتر ماحول فراہم کرنے، جبکہ پیرامیڈیکس کا سروس اسٹرکچر فوری نافذ کرنے اور ان کے سروس مسائل حل کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔گرینڈ ہیلتھ الائنس نے وفاقی بورڈ برائے محصولات کے اضافی ٹیکس ختم کرکے ٹیکس کی شرح کم کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
اتحاد کے مطابق ڈاکٹرز، نرسز اور پیرامیڈیکس کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے جبکہ پوسٹ گریجویٹ اور ہاؤس جاب کرنے والے ڈاکٹروں کے وظیفے میں بھی اضافہ کیا جائے۔












