سنگاپور(پاک ترک نیوز )دنیا بھر میں ایئرکنڈیشنڈ ملک کے نام سے مشہور سنگاپور اب شدید گرمی سے نمٹنے کے لیے روایتی ایئرکنڈیشننگ کے متبادل طریقے آزما رہا ہے، جن کا مقصد بجلی کی کھپت اور ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانا ہے۔
سنگاپور کے تقریباً 99 فیصد نجی گھروں میں ایئرکنڈیشنر موجود ہیں، جبکہ عمارتوں میں استعمال ہونے والی مجموعی توانائی کا 40 سے 60 فیصد حصہ صرف ٹھنڈک کے نظام پر خرچ ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق روایتی ایئرکنڈیشنر نہ صرف بھاری مقدار میں بجلی استعمال کرتے ہیں بلکہ ان کے کمپریسر گرم ہوا باہر خارج کرکے ماحول کی حدت میں بھی اضافہ کرتے ہیں۔
اس مسئلے کے حل کے لیے سنگاپور میں جدید ٹیکنالوجی متعارف کرائی جا رہی ہے، جن میں ایکٹو چلڈ بیم سسٹم شامل ہے۔ اس نظام میں چھت پر نصب خصوصی پینلز اور ٹھنڈے پانی کی مدد سے کمرے کی گرم ہوا کو ٹھنڈا کیا جاتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے ایک عمارت میں روایتی ایئرکنڈیشننگ کے مقابلے میں 30 فیصد سے زیادہ توانائی کی بچت حاصل کی گئی ہے۔
ایک اور طریقہ پیسیو ڈسپلیسمنٹ کولنگ ہے، جس میں قدرتی ہوا کی گردش اور ٹھنڈے پینلز کے ذریعے عمارت کو ٹھنڈا رکھا جاتا ہے، جس سے پنکھوں اور بجلی کی ضرورت کم ہوجاتی ہے۔
اسی طرح ریڈیئنٹ کولنگ ٹیکنالوجی میں پائپوں اور پینلز کے اندر ٹھنڈا پانی گزار کر لوگوں اور اشیا سے خارج ہونے والی حرارت جذب کی جاتی ہے۔
سنگاپور کی حکومت کے 2024 کے ایک مطالعے کے مطابق متبادل کولنگ ٹیکنالوجیز کے ذریعے توانائی کی کھپت میں 48 فیصد تک کمی ممکن ہے۔ 2026 کے وسط تک کم از کم 33 سرکاری اور 14 نجی عمارتیں یہ نظام اپنا چکی تھیں۔




