لاہور( پاک ترک نیوز) پاکستان اس وقت شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے، لیکن ماہرین کے مطابق یہ صرف عام ہیٹ ویو نہیں۔سائنسدان خبردار کر رہے ہیں کہ ملک کے اوپر ایک خطرناک ہیٹ ڈوم قائم ہو چکا ہے، جو گرمی کو زمین کے قریب قید کیے ہوئے ہے۔آخر یہ ہیٹ ڈوم کیا ہے اور یہ پاکستان کو کس طرح متاثر کر رہا ہے؟ دیکھیے اس رپورٹ میں۔
پاکستان کے مختلف شہر اس وقت شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں۔دن تو دن، رات کے وقت بھی گرمی اور حبس میں کمی نہیں آ رہی۔۔کھڑکیاں کھولنے پر بھی ٹھنڈی ہوا محسوس نہیں ہوتی، جبکہ بادل آ کر بھی بارش برسائے بغیر غائب ہو جاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس صورتحال کی بڑی وجہ ہیٹ ڈوم ایفیکٹ ہے۔عام حالات میں زمین سے گرم ہوا اوپر اٹھتی ہے، ٹھنڈی ہوتی ہے اور بادل بناتی ہے، لیکن جب فضا میں طاقتور ہائی پریشر سسٹم قائم ہو جائے تو گرم ہوا اوپر نہیں جا پاتی۔
یہ دباؤ ایک گنبد کی طرح کام کرتا ہے، جو گرمی کو زمین کے قریب قید رکھتا ہے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ بحیرۂ ہند کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت نے اس نظام کو مزید طاقت دی ہے۔جبکہ جیٹ اسٹریم، یعنی تیز رفتار فضائی ہوائیں، اس سال کمزور پڑ چکی ہیں، جس کی وجہ سے گرمی کا یہ دباؤ زیادہ دیر تک برقرار رہتا ہے۔
شمالی علاقوں میں گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں، جبکہ زرعی زمینوں میں نمی کم ہونے سے فصلیں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔
ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ ہیٹ ویو کے دوران احتیاط نہ کرنے سے ہیٹ اسٹروک کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔لوگ زیادہ سے زیادہ پانی استعمال کریں، دھوپ میں غیر ضروری نکلنے سے گریز کریں اور بچوں و بزرگوں کا خاص خیال رکھیں۔
اہرین شہریوں کو ہدایت کر رہے ہیں کہ دوپہر گیارہ بجے سے شام چار بجے تک دھوپ سے بچیں، ہلکے رنگ کے کپڑے پہنیں اور پانی کا استعمال زیادہ رکھیں۔
پاکستان اس وقت ایک سنگین ماحولیاتی چیلنج کا سامنا کر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے اثرات آنے والے برسوں میں مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں اور سائنسی حقائق کو سمجھتے ہوئے خود کو محفوظ رکھا جائے۔









