اسلام آباد(پاک ترک نیوز) قومی تحقیقاتی ادارے برائے سائبر جرائم نے ملک بھر میں سائبر جرائم کے خلاف کارروائیوں کے دوران ایک ماہ میں ایک ہزار 129 ملزمان کو گرفتار کر لیا، جبکہ متاثرین سے لوٹی گئی 10 کروڑ 53 لاکھ روپے کی رقم برآمد کرکے واپس کر دی گئی۔
ادارے کی جانب سے جاری کردہ ایک ماہ کی کارکردگی رپورٹ کے مطابق ڈائریکٹر جنرل سید علی ناصر رضوی کے عہدہ سنبھالنے کے بعد گزشتہ ایک ماہ کے دوران سائبر جرائم سے متعلق 5 ہزار 176 شکایات موصول ہوئیں، جن میں سے 4 ہزار 491 کی باقاعدہ تحقیقات شروع کی گئیں۔
رپورٹ کے مطابق تحقیقات مکمل ہونے پر سائبر جرائم میں ملوث افراد کے خلاف 272 مقدمات درج کیے گئے۔
ڈائریکٹر جنرل سید علی ناصر رضوی کا کہنا ہے کہ شہریوں کو ڈیجیٹل جرائم سے محفوظ رکھنا ادارے کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ سائبر جرائم کے خلاف عدم برداشت کی پالیسی پر سختی سے عمل درآمد جاری رکھا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا پہلا خلا باز 25 نومبر کو خلا میں روانہ ہونے کا امکان
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں ڈیجیٹل نظام قومی زندگی کا اہم حصہ بن چکا ہے، اس لیے شہریوں، اداروں اور ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کا تحفظ محض قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک قومی ضرورت ہے۔






