اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اپوزیشن کو ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اپوزیشن کی طرف ہاتھ بڑھانے اور بات چیت کے ذریعے آگے بڑھنے کے لیے تیار ہے۔ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کو زیادہ دیر تک جاری نہیں رکھا جا سکتا، اس لیے تمام سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھ کر دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی بنانا ہوگی۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ حکومت نے ہر ممکن سیاسی کوشش کی کہ اپوزیشن کو آمادہ کیا جائے اور ایمرجنسی جیسے آئینی اقدام کی نوبت نہ آئے۔ ان کے بقول مذاکرات کے لیے بنائی گئی کمیٹی میں نوید قمر اور شیری رحمان بھی شامل تھے، اور انہیں رات گئے اطلاع ملی تھی کہ مذاکرات کامیاب ہونے کے قریب ہیں اور تحریک انصاف بھی رضامند ہو گئی ہے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ مذاکرات میں یہ تجویز زیر غور تھی کہ صوبائی حکومت خود دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں کو دہشت گردی سے متاثرہ علاقے قرار دے گی، جبکہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اور اپوزیشن مل کر اس بات پر معاہدہ کریں گی کہ دہشت گردی کا مقابلہ کیسے کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں امید تھی کہ سیاسی قیادت ایک بڑی کامیابی حاصل کر لے گی، لیکن ایسا نہ ہو سکا۔بلاول بھٹو نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں پیدا ہونے والے سیاسی اور آئینی حالات میں صوبائی حکومت کا بھی کردار ہے۔ ان کے مطابق اگر کسی صوبے کا وزیراعلیٰ جلسے میں یہ اعلان کرے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف وفاق کا ساتھ نہیں دے گا تو یہ اپنی حکومت اور سیاست کے لیے نقصان دہ اقدام ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے ایک مشکل آئینی فیصلہ کیا ہے، تاہم اب بھی وزیراعظم اور وفاقی حکومت کو تجویز دیتا ہوں کہ اپوزیشن کی طرف ہاتھ بڑھائیں اور مذاکرات کے ذریعے آگے بڑھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایمرجنسی ہمیشہ جاری نہیں رکھی جا سکتی، لیکن دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن، فوج یا پولیس کی ذمہ داری نہیں، پوری قوم کو مل کر مقابلہ کرنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا اقدام مسترد، بھرپور احتجاج کریں گے، بیرسٹر گوہر
چیئرمین پیپلز پارٹی نے اپوزیشن سے مطالبہ کیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف قومی کوششوں میں اپنا کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان تمام سیاسی جماعتوں نے مل کر بنایا تھا، اس لیے دہشت گردی کے خلاف بھی مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنا ضروری ہے۔بلاول بھٹو زرداری نے بھارت، تحریک طالبان پاکستان اور دیگر عناصر سے متعلق اپنے مؤقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو درپیش خطرات کا مقابلہ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر کرنا ہوگا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بھارت مختلف طریقوں سے پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات کے پیچھے بھی بیرونی سازشیں کارفرما ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی جماعتوں کے لیے سیاسی گنجائش کم ہونے سے صرف ایک جماعت متاثر نہیں ہوتی بلکہ اس کے اثرات تمام جماعتوں اور کارکنوں تک پہنچتے ہیں۔ بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ اختلافات اپنی جگہ، لیکن ملک کی سلامتی کے لیے سب کو متحد ہو کر کھڑا ہونا ہوگا۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن کو پارلیمنٹ کے اندر بیٹھ کر مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے۔ وزیراعظم ہاؤس سے اختلاف ہو سکتا ہے، لیکن پارلیمنٹ کو تسلیم کرنا اور قومی معاملات پر بات چیت کرنا ضروری ہے۔












