بیجنگ ( پاک ترک نیوز) چین نے صحرائے تکلامکان کے نیچے انتہائی گہرائی میں موجود تیل اور گیس کے ذخائر سے پیداوار حاصل کرنے کا بڑا سنگِ میل عبور کرلیا۔چین کے قومی پٹرولیم ادارے کے مطابق تارم طاس میں واقع فومان آئل فیلڈ سے اب تک 2 کروڑ 3 لاکھ 60 ہزار ٹن خام تیل اور 8 ارب 15 کروڑ مکعب میٹر قدرتی گیس نکالی جاچکی ہے، جبکہ مجموعی پیداوار تیل کے مساوی 2 کروڑ 68 لاکھ 60 ہزار ٹن سے تجاوز کرگئی ہے۔یہ ذخائر صحرائے تکلامکان کے نیچے 6 ہزار میٹر، یعنی تقریباً 19 ہزار 685 فٹ کی گہرائی میں موجود ہیں۔ فومان آئل فیلڈ چین کا سب سے بڑا صحرائی تیل کا میدان قرار دیا جاتا ہے اور اسے انتہائی گہرائی میں تیل و گیس کی تلاش کا اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران سے جنگ ختم کرنے کے لیے جوہری افزودگی میں نمایاں کمی ضروری ہے، جے ڈی وینس
چین نے اس منصوبے میں ایک اور اہم کامیابی بھی حاصل کی ہے۔ تارم طاس میں ژنتان ایک کنویں سے 8 ہزار 80 میٹر، یعنی تقریباً 26 ہزار 509 فٹ کی گہرائی سے چٹان کا نمونہ یا بنیادی کور حاصل کیا گیا ہے۔چینی حکام کے مطابق یہ شمال مغربی تارم طاس میں پہلی مرتبہ ہے کہ 8 ہزار میٹر سے زیادہ گہرائی سے چٹان کا نمونہ حاصل کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق ان چٹانی نمونوں کی مدد سے تقریباً 50 کروڑ سال پرانی زیرِ زمین ارضیاتی تہوں کا جائزہ لیا جاسکے گا اور یہ معلوم کرنے میں مدد ملے گی کہ 8 ہزار میٹر سے زیادہ گہرائی میں تیل اور گیس پیدا کرنے کی صلاحیت کتنی ہے۔چین نے فومان آئل فیلڈ میں انتہائی گہرائی تک پہنچنے والے 485 کنویں کھود لیے ہیں۔ ان میں سے 133 کنویں ایک ایک لاکھ ٹن سے زیادہ تیل و گیس پیدا کرچکے ہیں، جبکہ مزید 464 کنوؤں کی مجموعی پیداوار 10 ہزار ٹن سے تجاوز کرچکی ہے۔تارم طاس چین کے اہم ترین تیل و گیس کے علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں 5 ارب ٹن سے زیادہ ثابت شدہ تیل و گیس کے ذخائر موجود ہیں، جن میں نصف سے زیادہ ذخائر 6 ہزار میٹر سے زیادہ گہرائی میں واقع ہیں۔صحرائے تکلامکان کے انتہائی مشکل ماحول اور زمین کے نیچے کئی میل گہرائی میں موجود ذخائر تک رسائی کے باوجود چین نے زیرِ زمین وسائل کی تلاش تیز کردی ہے۔












