لندن (پاک ترک نیوز)برطانوی بادشاہ چارلس سوم کی گیانا آمد کے موقع پر برطانیہ کی غلاموں کی تجارت میں تاریخی کردار پر ایک بار پھر بحث شدت اختیار کرگئی۔ کیریبین کے 15 ممالک برطانیہ سے باضابطہ معافی، مالی معاوضے اور نوآبادیاتی دور کے مظالم کا ازالہ کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں، تاہم بکنگھم پیلس نے واضح کیا ہے کہ بادشاہ چارلس اس دور کے حوالے سے گفتگو تو کریں گے لیکن باضابطہ معافی نہیں مانگیں گے۔
بادشاہ چارلس گیانا کے دو روزہ سرکاری دورے پر پہنچے، جہاں صدر محمد عرفان علی نے ان کا استقبال کیا۔ یہ دورہ ان کے نو روزہ کیریبین سفر کا حصہ ہے، جس میں بہاماس کے بعد گیانا اور پھر انٹیگوا و باربوڈا میں دولتِ مشترکہ کے سربراہی اجلاس میں شرکت بھی شامل ہے۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہورہا ہے جب کیریبین ممالک اور افریقی ریاستیں برطانیہ پر تاریخی غلاموں کی تجارت اور نوآبادیاتی دور کے مظالم کی ذمہ داری قبول کرنے کے لیے دباؤ بڑھا رہی ہیں۔
تاریخی اعدادوشمار کے مطابق پندرہویں سے انیسویں صدی کے دوران یورپی تاجروں نے تقریباً ایک کروڑ 25 لاکھ افریقیوں کو زبردستی بحر اوقیانوس کے پار منتقل کیا۔ ان میں سے تقریباً 32 لاکھ افراد کو برطانوی تاجروں نے غلام بنا کر منتقل کیا تھا۔
گیانا کے صدر محمد عرفان علی نے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے میں صرف زبانی معذرت کافی نہیں بلکہ قرضوں میں ریلیف، ترقیاتی منصوبوں کے لیے مالی معاونت، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں سرمایہ کاری بھی کی جانی چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ غلامی کے اثرات نے خطے کی ترقی اور عوام کی زندگیوں پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔
دوسری جانب بکنگھم پیلس نے دو اکتوبر کو واضح کیا تھا کہ بادشاہ چارلس برطانیہ کی غلاموں کی تجارت کے شرمناک ماضی پر گفتگو سے گریز نہیں کریں گے، تاہم وہ باضابطہ معافی نہیں مانگیں گے۔ بادشاہ اس سے پہلے بھی غلامی کے دور کو ماضی کے تاریک ترین ایام قرار دے چکے ہیں۔
برطانوی حکومت بھی تاریخی غلامی کے معاملے پر مالی معاوضے کی ادائیگی کی مخالفت کرتی رہی ہے۔ اس کا مؤقف ہے کہ تاریخی واقعات کے بدلے مالی ہرجانہ ادا نہیں کیا جائے گا، تاہم دولتِ مشترکہ کے ممالک کے ساتھ بات چیت جاری رکھی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: ہانگ کانگ سپر سکسز ٹورنامنٹ :بھارت کو پاکستان کے ہاتھوں شکست کا سامنا
غلامی کے معاملے پر دباؤ صرف کیریبین تک محدود نہیں بلکہ افریقی ممالک بھی برطانیہ سے معافی، معاوضے اور نوآبادیاتی دور میں لے جائی گئی ثقافتی اشیا کی واپسی کا مطالبہ کررہے ہیں۔ گھانا کے صدر جان ڈرامانی مہاما اور کینیا کی قیادت بھی اس معاملے کو عالمی سطح پر اٹھا چکی ہے۔
کینیا نے برطانوی نوآبادیاتی دور میں ہونے والے مظالم پر معاوضے کا مطالبہ کیا تھا، جس کے بعد 2013 میں برطانیہ نے پانچ ہزار سے زائد متاثرین کو دو کروڑ پاؤنڈ ادا کرنے پر اتفاق کیا تھا، تاہم مزید جواب دہی کے مطالبات اب بھی برقرار ہیں۔







