کراچی (پاک ترک نیوز )وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے نئے مالی سال کا 3.562 کھرب روپے کا بجٹ سندھ اسمبلی میں پیش کر دیا
بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا، وزیراعلیٰ سندھ نے عوام اور کاروباری طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے کا اعلان کر دیا ،صوبے میں کم از کم اجرت 40 ہزار سے بڑھا کر 41 ہزار روپے ماہانہ مقرر کر دی گئی۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے بجٹ تقریر میں کہا بجٹ کا خسارہ 36.9 ارب روپے متوقع ہے، آمدنی 3.525 کھرب روپے رکھی گئی۔سندھ کا بجٹ 4 اصولوں آئینی حقوق، مالیاتی پائیداری، قومی استحکام اور عوامی فلاح پر مبنی ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا وفاق کے ساتھ تعاون کے تحت ترقیاتی پورٹ فولیو 575 ارب سے کم کرکے 400 ارب روپے کرنا پڑا،وفاق کے ساتھ این ایف سی ایوارڈ میں سندھ کے حصے کا تحفظ یقینی بنایا ہے۔
Read this too:تنخواہ دار طبقے کیلئے ٹیکس ریلیف کی تجویز، آئی ایم ایف منظوری کا انتظار
وزیراعلیٰ سندھ نے تعلیم، زراعت، انشورنس اور روزگار کے شعبوں کے لیے خصوصی ریلیف پیکیج کا اعلان کر دیا ۔
وزیراعلیٰ نے کہا تعلیمی معاونتی خدمات پر سیلز ٹیکس کم کرکے 5 فیصد کر دیا گیا،سوشل پروٹیکشن پیکیج کے لیے 13.2 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے،سوشل پروٹیکشن میں کچن گارڈن، بینظیر ہاری کارڈ اور بینظیر ویمن ایگریکلچر ورکرز پروگرام شامل ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا سوشل پروٹیکشن پیکیج کے تحت بیواؤں اور یتیموں کے لیے بھی امدادی اسکیمیں جاری رہیں گی، پوائنٹ آف سیل (پی او ایس) سے منسلک بیوٹی سیلونز اور اوورسیز ایمپلائمنٹ ریکروٹنگ ایجنسیوں کے لیے رعایتی ٹیکس برقرار ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے انشورنس ایجنٹس اور بروکرز پر لاگو ٹیکسز میں کمی کا اعلان کر دیا ہے
وزیراعلیٰ سندھ نے کہازرعی سپر ٹیکس کی استثنیٰ کی حد 150 ملین سے بڑھا کر 500 ملین روپے کر دی گئی، زرعی سپر ٹیکس کی شرح کو بھی 10 فیصد سے کم کر کے 8 فیصد کر دیا گیا۔نئے مالی سال کے سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) کا حجم 400 ارب روپے مقرر ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہالوکل گورنمنٹ اور میونسپل انفراسٹرکچر کے لیے سب سے زیادہ 121.6 ارب روپے مختص کیا گیا ہے،پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے لیے 40.9 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔ٹرانسپورٹ اور مواصلات کے منصوبوں کے لیے 39.5 ارب روپے مختص کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا آبپاشی منصوبوں کیلئے 30.9 ارب روپے کی رقم رکھی گئی ہے،تعلیم کے شعبے کے لئے 25.9 ارب روپے کی ترقیاتی رقم مختص کی گئی ہے، صحت کے شعبے کے لیے 17.4 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ مقرر کیا گیا۔زراعت اور لائیوسٹاک کے ترقیاتی کاموں کے لیے 6.3 ارب روپے مختص کیا گیا ۔
وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے کراچی میں ‘سندھ انٹرنیشنل فائننشل سینٹر’ قائم کرنے کا اعلان کر دیا ہے ،کہتے ہیں ائننشل سینٹر انفراسٹرکچر فنانس، اسلامک فنانس اور کلائمیٹ فنانس کا پلیٹ فارم ہوگا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کیٹی بندر کو عالمی بحری، لاجسٹکس، انڈسٹریل اور توانائی مرکز بنائے کا عزم کا اظہار کیا ہے۔ بجٹ تقریر کرتے ہوئے کہا شہید ذوالفقار علی بھٹو نے پورٹ قاسم کی بنیاد رکھی، شہید بینظیر بھٹو کے وژن کے تحت اب چیئرمین بلاول بھٹو کیٹی بندر کی نئی معاشی تقدیر رقم کرے گا۔پورٹ قاسم کے بعد کیٹی بندر سندھ کی معاشی ترقی کا اگلا عظیم سنگِ میل بننے جا رہا ہے،کیٹی بندر کے ذریعے پاکستان عالمی تجارتی راستوں سے مزید مضبوط انداز میں منسلک ہوگا۔؎
وزیراعلیٰ نے کہاکیٹی بندر منصوبہ دھابیجی اسپیشل اکنامک زون اور تھر کے کوئلہ وسائل سے منسلک ہوگا،ہم کیٹی بندر کو پاکستان کا نیا معاشی اور بحری گیٹ وے بنائیں گے۔پیپلز پارٹی کے وژن کے تحت کراچی کو عالمی سرمایہ کاری کے مرکز بنا رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا اٹھارہ ارب روپے کی لاگت سے 2 لاکھ 75 ہزار مفت سولر ہوم سسٹمز تقسیم کیے جائیں گے،غریب گھرانوں کو مفت سولر سسٹمز فراہم کیے جائیں گے۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کسان دوست وژن کے تحت زرعی کلیکٹوز کے ذریعے چھوٹے ہاریوں کو نئی معاشی طاقت دی جا رہی ہے، ویسٹ ٹو ویلیو پروگرام سے کچرے کو معاشی وسائل میں تبدیل کیا جائے گا،سندھ میں سرمایہ کاری، صنعت، تجارت اور روزگار کے نئے دروازے کھولے جا رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا سندھ حکومت نے چھوٹے کسانوں کیلئے خصوصی قانون سازی کا فیصلہ کیا ہے۔چھوٹے آبادگاروں کے لیے زرعی اجتماعی اداروں کے قیام کی قانون سازی ہوگی، ہاریوں کو مشینری، مالیات، انشورنس اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی دی جائے گی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کراچی کی ترقی کے لیے جدید انفراسٹرکچر اور مؤثر ٹرانسپورٹ نظام ناگزیر ہے،شاہراہِ بھٹو کراچی کے ٹریفک نظام میں انقلابی تبدیلی کا باعث بن رہی ہے۔کراچی کا پہلا بڑا انفراسٹرکچر منصوبہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت مکمل کیا گیا۔












