کراچی ( پاک ترک نیوز) سندھ ہائیکورٹ میں صنعتی ملازمین کے بچوں میں حکومت سندھ کے اسپتال سے ایچ آئی وی وائرس پھیلنے کے کیس کی سماعت ہوئی ،عدالت نے حکومت سندھ سے دو ہفتوں میں رپورٹ طلب کرلی۔
وکیل طارق منصور نے دلائل دیئے حکومت کی جانب سے سنگین غفلت و لاپرواہی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے، کلثوم بائی ولیکا اسپتال میں استعمال شدہ انجیکشنز دوبارہ استعمال کرنے سے بچوں میں ایڈز کا مریض پھیل رہا ہے۔9معصوم بچے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں، سیکڑوں اس مرض کا شکار ہوگئے۔
وکیل کے مطابق 9بچوں کی ہلاکت کو آٹھ ماہ گزر چکے کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ ہمارے لیگل نوٹس کے جواب میں انکوائری کروائی گئی۔ لیکن کارروائی کی رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی نہ کسی اور کو دی جارہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: موٹاپا خاموش قاتل بن گیا
وکیل نے دلائل دیئےمزدوروں کیلیے حکومت سندھ کے اسپتالوں میں دس لاکھ مزدور اور 80لاکھ اہل خانہ علاج کرواتے ہیں، اب تک سیکڑوں بچے ایچ آئی وی وائرس کا شکار ہو گئے، انہیں بہتر علاج کی سہولیات فراہم نہیں کی جارہیں۔جو بچے جاں بحق ہوچکے انکی ہلاکت کی ایف آئی آر درج نہیں کروائی جارہی۔ وکیل طارق منصور نے جذباتی انداز میں کہا اگر عدالت نے کچھ نہ کیا تو یہ سیکڑوں بچے بھی مرجائیں گے۔
جسٹس عدنان کریم نے کہا مرنا سب کو ہے لیکن عدالت طریقہ کار کے مطابق ہی کارروائی کریگی۔عدالت کو اپنا کام کرنے دیں، تقریر کرنا ہے تو باہر جاکر کریں۔ جب فریقین کا جواب آجائیگا عدالت اسکے بعد ہی کسی نتیجے پر پہنچے گی۔ سب کچھ اس عدالت میں آئیگا اور انصاف ہوگا لیکن طریقہ کار کی پابندی کریں،آئندہ سماعت 20 جولائی کیلئے ملتوی کرتے ہوئے فریقین سے جواب طلب کرلیا گیا۔












