باکو ( پاک ترک نیوز) آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان برسوں تک جاری رہنے والی کشیدگی اب کسی حد تک کم ہو چکی ہے، لیکن عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ جنگ چھڑتی ہے تو فضائی محاذ پر آذربائیجان کو واضح برتری حاصل ہوگی۔
اس کی بنیادی وجہ جدید ڈرون ٹیکنالوجی، الیکٹرانک وارفیئر اور درست نشانہ لگانے والے ہتھیاروں میں آذربائیجان کی مسلسل سرمایہ کاری ہے، جبکہ آرمینیا اب بھی بڑی حد تک سوویت دور کے روایتی جنگی نظریات اور محدود فضائی صلاحیتوں پر انحصار کرتا ہے۔
ستمبر سے نومبر 2020 تک جاری رہنے والی دوسری نگورنو کاراباخ جنگ میں ہزاروں فوجی مارے گئے، تاہم اس جنگ کی سب سے بڑی خصوصیت جدید ڈرونز اور "لوئٹرنگ میونیشنز” (خودکش ڈرونز) کا بھرپور استعمال تھا۔
یہ بھی پڑھیں: 20تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزر گئے ،امریکی حکام
اسی جنگ کے نتیجے میں آذربائیجان نے نہ صرف اہم علاقے واپس حاصل کیے بلکہ 2023 میں پورے نگورنو کاراباخ پر دوبارہ کنٹرول قائم کر لیا۔
دو ہزار پچیس میں امریکی صدر کی موجودگی میں آرمینیا کے وزیر اعظم نکول پاشینیان اور آذربائیجان کے صدر الہام علییف نے وائٹ ہاؤس میں امن معاہدے پر دستخط کیے، جبکہ آرمینیا اپنے آئین میں بھی ایسی ترامیم کر رہا ہے جن کے تحت نگورنو کاراباخ پر دعویٰ ختم کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس کی ایک اہم وجہ یہ احساس بھی ہے کہ مستقبل میں آذربائیجان کے خلاف فضائی جنگ جیتنا آرمینیا کے لیے انتہائی مشکل ہوگا۔
آذربائیجان کو کن شعبوں میں برتری حاصل ہے؟آذربائیجان کی آبادی تقریباً 1 کروڑ 7 لاکھ ہے۔آرمینیا کی آبادی صرف 30 لاکھ کے قریب ہے۔
آذربائیجان کی معیشت بھی آرمینیا سے تقریباً ڈھائی گنا بڑی ہے، جس کے باعث وہ دفاع پر زیادہ اخراجات کر سکتا ہے۔آذربائیجان کی فضائیہ روایتی جنگی طیاروں اور جدید ڈرونز کا امتزاج بن چکی ہے۔
دوسری جانب آرمینیا کے پاس صرف چار جدید لڑاکا طیارے ہیں ،اور چند حملہ آور طیارے موجود ہیں
جنگ کے دوران آذربائیجان کے ٹی بی ٹو ڈرون کئی کئی گھنٹے میدان جنگ پر پرواز کرتے رہے، دشمن کی نقل و حرکت پر نظر رکھتے رہے اور توپ خانے، ٹینکوں اور فوجی قافلوں کو انتہائی درستگی سے نشانہ بناتے رہے۔
اسرائیل ڈرون خاص طور پر آرمینیا کے ریڈار اور فضائی دفاعی نظام کو تباہ کرنے کے لیے استعمال کیے گئے، جس کے بعد آرمینیا کے لیے اپنے فضائی دفاع کو برقرار رکھنا انتہائی مشکل ہو گیا۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر مستقبل میں دوبارہ جنگ ہوتی ہے اور کسی بیرونی طاقت کی مداخلت نہ ہوئی تو آذربائیجان جلد فضائی برتری حاصل کر سکتا ہے۔آرمینیا کے ریڈار اور فضائی دفاعی نظام ابتدائی مرحلے میں ہی شدید نقصان اٹھا سکتے ہیں۔
دفاعی ماہرین کے مطابق آذربائیجان مسلسل ڈرون حملوں کے ذریعے دشمن کی نقل و حرکت محدود کر سکتا ہے۔آرمینیا اپنی محدود فضائی قوت کے باعث جنگی نقصانات کا فوری ازالہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوگا۔












