تہران ( پاک ترک نیوز) امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی نے ایک اہم سوال کو جنم دیا ہے کہ اگر امریکہ فضائی حملوں سے آگے بڑھ کر ایران کے اندر زمینی فوج اتارنے کا فیصلہ کرے تو اس کے کیا نتائج نکل سکتے ہیں؟ کیا یہ آپشن حقیقت پسندانہ ہے یا صرف دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی؟
عالمی دفاعی ماہرین کے مطابق ایران میں براہِ راست زمینی جنگ امریکہ کے لیے گزشتہ کئی دہائیوں کا سب سے مشکل فوجی آپریشن ثابت ہو سکتی ہے۔ حالیہ تجزیوں میں بھی یہ نشاندہی کی گئی ہے کہ اگرچہ امریکہ مختلف عسکری آپشنز پر غور کرتا رہا ہے، لیکن بڑے پیمانے پر زمینی کارروائی انتہائی خطرناک اور مہنگی ہو سکتی ہے۔
کیا امریکہ واقعی فوج بھیج سکتا ہے؟ اس کا مختصر جواب: ہے ہاں ممکن ہے، لیکن آسان نہیں۔
امریکہ کے پاس دنیا کی طاقتور ترین فوج، بحری بیڑے، فضائیہ اور میرین فورس موجود ہے، مگر ایران عراق یا افغانستان جیسا ملک نہیں۔ایران کا رقبہ تقریباً 16 لاکھ مربع کلومیٹر ہے۔ آبادی تقریباً 9 کروڑ کے قریب ہے۔ پہاڑی، صحرائی اور شہری علاقوں کا ملا جلا جغرافیہ فوجی کارروائی کو انتہائی پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ ایران کی باقاعدہ فوج کے ساتھ پاسدارانِ انقلاب اور اس سے وابستہ فورسز بھی موجود ہیں۔
امریکا کو ایران کے اندر مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہےایران صرف روایتی فوج پر انحصار نہیں کرتا بلکہ اس کے پاس میزائل، ڈرون، بحری فورس، اسپیشل یونٹس اور غیر روایتی جنگ کی صلاحیت بھی موجود ہے۔اگر لڑائی تہران، اصفہان، تبریز یا مشہد جیسے بڑے شہروں تک پہنچتی ہے تو یہ انتہائی خونریز ثابت ہو سکتی ہے۔افغانستان اور عراق کی طرح ایران میں بھی طویل مزاحمتی جنگ شروع ہو سکتی ہے جس سے امریکی نقصانات بڑھ سکتے ہیں۔
اگر امریکہ زمینی کارروائی کرتا ہے تو ایران آبنائے ہرمز میں مزید کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔دنیا کی تیل تجارت کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے، لہٰذا اس کی بندش یا شدید خطرات سے عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہو سکتا ہے۔ عالمی معیشت متاثر ہو سکتی ہے۔ خلیجی ممالک پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ خطے پر کیا اثرات ہوں گے؟
اگر جنگ وسیع ہوئی توعراق، شام اور خلیجی ممالک میں امریکی اڈے نشانہ بن سکتے ہیں۔ اسرائیل پر حملوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ لبنان، یمن اور دیگر محاذ بھی فعال ہو سکتے ہیں۔ لاکھوں افراد نقل مکانی پر مجبور ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ کا ایران میں زمینی فوج بھیجنے پر غور
امریکہ کو کیا قیمت چکانا پڑ سکتی ہے؟
حالیہ رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ مختلف عسکری آپشنز پر غور ضرور کرتا رہا ہے، لیکن زمینی حملہ انتہائی خطرناک انتخاب سمجھا جاتا ہے، اسی لیے فضائی حملوں، بحری دباؤ، خصوصی آپریشنز اور سفارتی ذرائع کو زیادہ قابلِ عمل تصور کیا جاتا ہے۔
اگر امریکہ ایران میں زمینی فوج بھیجتا ہے تو یہ صرف دو ممالک کے درمیان جنگ نہیں رہے گی بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ اس سے عالمی معیشت، تیل کی منڈیاں، بحری تجارت اور علاقائی سلامتی شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اسی لیے زیادہ تر دفاعی ماہرین کے نزدیک زمینی حملہ آخری اور سب سے زیادہ خطرناک آپشن سمجھا جاتا ہے، جبکہ سفارت کاری اور محدود عسکری کارروائیاں اب بھی زیادہ ممکنہ راستہ ہیں۔












