لاہور( پاک ترک نیوز) دنیا بھر میں الیکٹرک بائیکس کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے، کیونکہ یہ پیٹرول کے بڑھتے اخراجات سے بچنے کا ایک سستا اور ماحول دوست ذریعہ سمجھی جاتی ہیں۔
لیکن حالیہ کچھ عرصے میں ای بائیکس میں آگ لگنے کے واقعات نے صارفین کو تشویش میں مبتلا کر دیا
ماہرین کے مطابق الیکٹرک بائیکس میں لگنے والی آگ کی سب سے بڑی وجہ ناقص یا غیر معیاری لیتھیم بیٹریاں ہوتی ہیں۔
سستی اور غیر رجسٹرڈ بیٹریاں زیادہ گرم ہونے کے بعد اچانک شارٹ سرکٹ کا شکار ہو سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھتی ہے۔
ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ بہت سے صارفین بائیک کو پوری رات چارج پر لگا چھوڑ دیتے ہیں، جس سے بیٹری اوور چارج ہو جاتی ہے۔
اوور چارجنگ بیٹری کے اندر حرارت بڑھاتی ہے اور یہی حرارت بعض اوقات دھماکے یا آگ کا سبب بن جاتی ہے۔
اس کے علاوہ غیر معیاری چارجرز کا استعمال، خراب وائرنگ، پانی لگ جانا یا حادثے کے بعد بیٹری کا متاثر ہونا بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔کئی صارفین مقامی مارکیٹ سے سستے چارجر خرید لیتے ہیں جو بیٹری کے وولٹیج کو صحیح طریقے سے کنٹرول نہیں کرتے۔
ماہرین کے مطابق اگر چند احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں تو ای بائیکس کو محفوظ طریقے سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمیشہ معروف کمپنی کی بائیک اور اصل بیٹری استعمال کی جائے۔
بائیک کو رات بھر چارج پر نہ چھوڑا جائے اور چارجنگ کے دوران اسے بند اور ہوادار جگہ پر رکھا جائے۔ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ اگر بیٹری سے بدبو آئے، غیر معمولی گرمی محسوس ہو یا بائیک کی کارکردگی اچانک متاثر ہونے لگے تو فوری طور پر ماہر ٹیکنیشن سے معائنہ کروایا جائے۔
سوال یہ بھی اٹھ رہا ہے کہ کیا موجودہ حالات میں ای بائیکس خریدنی چاہییں یا نہیں؟ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق اگر معیاری کمپنی کی بائیک خریدی جائے اور حفاظتی اصولوں پر عمل کیا جائے تو ای بائیکس اب بھی ایک بہتر، سستا اور ماحول دوست ذریعہ سفر ہیں۔دنیا کے کئی بڑے ممالک میں لاکھوں افراد روزانہ الیکٹرک بائیکس استعمال کر رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل خطرہ ٹیکنالوجی نہیں بلکہ ناقص معیار اور غیر محتاط استعمال ہے۔اسی لیے صارفین کو سستی اور غیر تصدیق شدہ بیٹریوں سے بچنے اور حفاظتی ہدایات پر مکمل عمل کرنے کی ضرورت ہے۔












