نیویارک : (پاک ترک نیوز)اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو خبردار کیا ہے کہ اگر فلسطینی مہاجرین کیلئے اقوامِ متحدہ کے ادارے UNRWA کو نشانہ بنانے والے قوانین واپس نہ لیے گئے اور ضبط شدہ اثاثے بحال نہ کیے گئے تو وہ اسرائیل کے خلاف عالمی عدالتِ انصاف سے رجوع کر سکتے ہیں۔
نیتن یاہو کے نام لکھے گئے خط میں گوتریس نے کہا کہ اقوامِ متحدہ ایسے اقدامات پر خاموش نہیں رہ سکتی جو بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں، اور ان اقدامات کو فوری طور پر واپس لیا جانا چاہیے۔
خیال رہے کہ اکتوبر 2024 میں اسرائیلی پارلیمنٹ نے ایک قانون منظور کیا تھا جس کے تحت UNRWA کو اسرائیل اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں کام کرنے سے روک دیا گیا، جبکہ اسرائیلی حکام کو بھی اس ادارے سے کسی قسم کے رابطے سے منع کر دیا گیا۔
بعد ازاں گزشتہ ماہ قانون میں ترمیم کرتے ہوئے UNRWA کی تنصیبات کو بجلی اور پانی کی فراہمی پر بھی پابندی عائد کر دی گئی۔
اسرائیلی حکام نے گزشتہ ماہ مشرقی یروشلم میں واقع UNRWA کے دفاتر بھی قبضے میں لے لیے۔ اقوامِ متحدہ مشرقی یروشلم کو اسرائیل کے زیرِ قبضہ علاقہ تصور کرتی ہے، جبکہ اسرائیل پورے یروشلم کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے۔
گوتریس نے واضح کیا کہ UNRWA اقوامِ متحدہ کا لازمی حصہ ہے اور اسرائیل 1946 کے کنونشن برائے مراعات و استثنیٰ کے تحت UNRWA اور اس کے عملے کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کا پابند ہے۔
کنونشن کے مطابق اقوامِ متحدہ کی تنصیبات ناقابلِ دست درازی ہوتی ہیں۔اسرائیل کے اقوامِ متحدہ میں سفیر ڈینی ڈینن نے گوتریس کے خط کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل ان دھمکیوں سے مرعوب نہیں ہوگا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ UNRWA کے بعض ملازمین دہشت گردی میں ملوث رہے ہیں، تاہم اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ ان الزامات کے شواہد فراہم نہیں کیے گئے۔
UNRWA 1949 میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے قائم کیا تھا اور یہ ادارہ غزہ، مقبوضہ مغربی کنارے، شام، لبنان اور اردن میں لاکھوں فلسطینیوں کو خوراک، صحت اور تعلیم کی سہولیات فراہم کرتا رہا ہے۔
اسرائیل طویل عرصے سے اس ادارے کے خاتمے کا مطالبہ کرتا آیا ہے۔اقوامِ متحدہ کے مطابق اکتوبر 2023 کے حملوں سے متعلق الزامات کے بعد نو UNRWA ملازمین کو برطرف کیا گیا، جبکہ باقی تمام الزامات کی تحقیقات جاری ہیں۔ اقوامِ متحدہ نے بارہا اسرائیل سے شواہد مانگے، مگر اس کے بقول تاحال ثبوت فراہم نہیں کیے گئے۔
5 جنوری کی اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق غزہ میں جاری جنگ کے دوران 382 UNRWA ملازمین ہلاک ہو چکے ہیں، جو 1945 میں اقوامِ متحدہ کے قیام کے بعد کسی ایک تنازع میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔






