کراچی ( پاک ترک نیوز) کراچی میں رینجرز کیمپ پر حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں کی گئی، فتنہ الہندوستان،فتنہ الخوارج اورجماعت الحرار کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا۔
وزیرداخلہ سندھ ضیاء لنجار نے آئی جی اور ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی کے ہمراہ نیوز کانفرنس میں کہا چار میں سے تین دہشت گرد افغان شہری، ایک باجوڑ کا رہائشی تھا، دہشت گردوں کے ہینڈلر افغانستان سے ہدایات دے رہے تھے۔
ضیاء لنجار نے کہا کراچی کے امن کو سبوتاژ کرنے کی سازش کو کامیابی سے خاک میں ملادیاگیا۔
ایس ایس پی سی ٹی ڈی عرفان بہادرنے کہاحملے میں فتنہ الہندوستان کا بھی ہاتھ ہے، کراچی میں اٹیک کے لئے افغانستان میں ہی دہشتگردوں کا چناؤ ہوا، خودکش بمبارکا تعلق افغانستان سےتھا، حملے کی منصوبہ بندی کرنےوالوں میں نور ولی، شیرعلی،سید شامل ہیں ۔
ایس ایس پی سی ٹی ڈی عرفان بہادرنے کہا قاری بشیر بزدلانہ حملے کا مرکزی ماسٹر مائنڈ ٹھا،دہشت گرد عثمان عرف شیر محمد کو زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا
یہ بھی پڑھیں: محکمہ موسمیات کی کراچی میں بارش کی پیشگوئی
ایس ایس پی سی ٹی ڈی عرفان بہادرنے کہا زخمی دہشت گرد عثمان نے مختلف کیمپس پر تربیت لینے کا اعتراف کیا، دہشتگردوں کو کراچی میں حملے سے قبل افغانستان میں تربیت فراہم کی گئی تھی۔
افغانستان میں دہشتگردوں کو تربیت دے کر پاکستان میں حملوں کے لئے استعمال کیا جاتا ہے ۔ مختلف علاقوں سے ہوتے ہوئے یہ تمام دہشتگرد پاکستان میں داخل ہوئے۔
گرفتار دہشتگرد کا اعترافی بیان بھی پریس کانفرنس کے دوران اسکرین پر چلایا گیا۔












