لاہور( پاک ترک نیوز) پاکستان کا عام شہری زندگی کے تقریباً ہر مرحلے پر کسی نہ کسی شکل میں ٹیکس ادا کرتا ہے؟ پیدائش سے پہلے ہسپتال کے اخراجات ہوں، بچوں کا دودھ اور ڈائپر ہوں، تعلیم، موبائل فون، بجلی، گیس، پیٹرول، گھر کی تعمیر یا روزمرہ خریداری، ہر جگہ ٹیکس موجود ہے۔
حکومت نے مالی سال 2026-27 کیلئے 15.26 کھرب روپے سے زائد ٹیکس وصولی کا ہدف مقرر کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ رقم آخر آتی کہاں سے ہے؟ جواب ہے: عوام کی جیب سے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان میں بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ بہت زیادہ ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ امیر اور غریب دونوں جب کوئی چیز خریدتے ہیں تو ٹیکس ادا کرتے ہیں۔
اگر ایک شہری 10 ہزار روپے کی کوئی الیکٹرانک چیز خریدتا ہے تو 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس کی صورت میں تقریباً 1,800 روپے حکومت کے خزانے میں چلے جاتے ہیں۔ 50 ہزار روپے کے موبائل فون پر تقریباً 9 ہزار روپے اور ایک لاکھ روپے کے فریج پر 18 ہزار روپے تک ٹیکس شامل ہو سکتا ہے۔
پیٹرول بھی عوام کیلئے بڑا ٹیکس بم بن چکا ہے۔اگر کوئی شخص ماہانہ پچاس لٹر پٹرول استعمال کرتا ہے تو سالانہ چھ سولٹر بنتے ہیں ، اس میں ٹیکسز اورلیوی کی مد میں ہزاروں روپے اضافہ حکومت کو اداکرنا پڑتے ہیں
حکومت نے صرف پیٹرولیم لیوی کی مد میں 1.47 کھرب روپے وصول کرنے کا ہدف مقرر کیا، جبکہ آنے والے مالی سال میں یہ ہدف 1.73 کھرب روپے تک پہنچنے کی توقع ہے۔ یعنی جب بھی کوئی شہری موٹر سائیکل یا گاڑی میں پیٹرول ڈلواتا ہے تو اس کی رقم کا ایک حصہ براہ راست حکومتی خزانے میں جاتا ہے۔
موبائل فون استعمال کرنے والا ہر پاکستانی بھی ٹیکس نیٹ میں شامل ہے۔ موبائل لوڈ، انٹرنیٹ پیکیجز اور مختلف ٹیلی کام سروسز پر عائد ٹیکس روزانہ کروڑوں روپے کی وصولی کا ذریعہ بنتے ہیں۔
بجلی کے بل عوام کیلئے الگ امتحان ہیں۔ ایک صارف اگر 20 ہزار روپے کی بجلی استعمال کرے تو مختلف ٹیکسوں، سرچارجز اور دیگر چارجز کے بعد بل 30 ہزار روپے تک پہنچ سکتا ہے۔
تنخواہ دار طبقہ بھی مسلسل دباؤ میں ہے۔ تنخواہ ملنے سے پہلے ہی انکم ٹیکس کی کٹوتی ہو جاتی ہے۔ بینک اکاؤنٹس، سرمایہ کاری اور دیگر مالی سرگرمیوں پر بھی مختلف ٹیکس نافذ ہیں۔
گھر کا راشن خریدنا ہو تا دودھ ، آٹا خریدناہو یا چاول ، ہر چیز پر عوام کو ٹیکسز کی مد میں بھاری ادائیگی کرنا پڑتی ہے ،گھر بنانا ہو تو سیمنٹ، سریا، ٹائلز، پینٹ اور دیگر تعمیراتی سامان کی قیمتوں میں شامل ٹیکس الگ بوجھ بنتے ہیں۔ گاڑی خریدنے پر رجسٹریشن فیس، ایڈوانس انکم ٹیکس اور دیگر سرکاری محصولات ادا کرنا پڑتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت کا سوشل میڈیا انفلوئنسرز پر ٹیکس کا شکنجہ مزید سخت کرنے کا فیصلہ
اگر کوئی شخص مر جائے تو بھی اسے ادائیگی کرنا پڑتی ہے ،قبرستان میں قبر کی جگہ کے لیے فیسا ادا کرنا پڑتی ہے ، اس کے علاوہ قبر کھودنے، کتبہ لگانے اور اینٹوں کا خرچ الگ ہوتا ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق اگر ایک متوسط طبقے کا خاندان ماہانہ 60 ہزار روپے خرچ کرتا ہے تو صرف سیلز ٹیکس کی مد میں سالانہ تقریباً ایک لاکھ روپے تک ادا کر سکتا ہے، جبکہ اس میں پیٹرول، بجلی، موبائل اور دیگر ٹیکس شامل نہیں ہوتے۔
یوں ایک عام پاکستانی زندگی کے آغاز سے لے کر آخری سفر تک کسی نہ کسی شکل میں ٹیکس ادا کرتا رہتا ہے۔ عوام کا کہناہے حکومت کھربوں روپے ٹیکس وصول کرتی ہے تو کیا صحت، تعلیم، صاف پانی، سستی بجلی اور بہتر ٹرانسپورٹ جیسی بنیادی سہولیات بھی اسی معیار کی مل رہی ہیں؟












