واشنگٹن ( پاک ترک نیوز) امریکی فضائی تحقیقاتی کمپنی اسٹریٹولانچ نے اعلان کیا ہے کہ اس کے دوبارہ استعمال کے قابل انتہائی تیز رفتار آزمائشی طیارے نے کامیابی سے دس سے زائد پروازیں مکمل کر لی ہیں، جس سے کم لاگت اور تیز رفتار دفاعی و سائنسی آزمائشوں کی نئی راہیں کھلنے کی توقع ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ طیارہ مکمل طور پر خودکار نظام کے تحت کام کرتا ہے، اسے ایک بڑے طیارے سے فضا میں چھوڑا جاتا ہے اور یہ آواز کی رفتار سے پانچ گنا زیادہ رفتار حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
آزمائشی مشن مکمل ہونے کے بعد یہ طیارہ بحفاظت عام ہوائی پٹی پر واپس اتر آتا ہے، جس کے بعد اس کی مرمت اور جانچ کے بعد اسے دوبارہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس طریقۂ کار سے آزمائشی پروازوں کی لاگت اور تیاری کا وقت نمایاں طور پر کم ہو جاتا ہے۔
کمپنی کے مطابق تمام پروازیں بغیر پائلٹ انجام دی گئیں اور پورا نظام خودکار انداز میں کام کرتا رہا۔ ان آزمائشوں کے دوران ہوائی کارکردگی، انجن کی صلاحیت، شدید حرارت سے بچاؤ کے نظام اور جدید پروازی نظام سے متعلق اہم معلومات حاصل کی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا کے سب سے بڑے مال بردار طیارے کی تیاری میں اہم پیش رفت
اس منصوبے کا مقصد امریکی دفاعی اداروں کو انتہائی تیز رفتار ہتھیاروں اور جدید فضائی ٹیکنالوجی کی آزمائش کے لیے زیادہ مؤثر اور کم خرچ سہولت فراہم کرنا ہے۔
کمپنی کے پاس اس وقت دو بڑے بردار طیارے اور دو انتہائی تیز رفتار آزمائشی طیارے موجود ہیں، جن کی مدد سے ضرورت کے مطابق مسلسل آزمائشی پروازیں کی جا سکتی ہیں۔
کمپنی کے سربراہ ڈاکٹر زیکری کریور کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد انتہائی تیز رفتار آزمائشوں کو ایک نایاب عمل کے بجائے معمول کی سروس بنانا ہے، تاکہ نئی دفاعی اور فضائی ٹیکنالوجی کی تیاری پہلے سے کہیں زیادہ تیزی سے ممکن ہو سکے۔
انہوں نے بتایا کہ آئندہ مزید آزمائشی پروازیں کی جائیں گی، نئی نسل کے انتہائی تیز رفتار طیاروں پر کام جاری رہے گا اور دنیا بھر کے دفاعی، فضائی اور تحقیقی اداروں کے ساتھ تعاون کو بھی وسعت دی جائے گی۔












