
از: سہیل شہریار
پاکستان کے وفاقی بجٹ 2026-27کی تیاری کا عمل تیزی جاری ہے۔ جو آئندہ ماہ مئی کے آخر تک مکمل ہو گا۔ بجٹ کی تیاری میں اقتصادی استحکام کےساتھ اب پائیدار ترقی ،اصلاحات ، نجکاری اور ڈیجیٹلائزیشن کی طرف توجہ مرکوز کی گئی ہے۔
بجٹ کے حجم کا ابتدائی تخمینہ 180سے190کھرب روپے ۔جبکہ شرح نمو کا ہدف 5.1 سے6.5فیصد متوقع ہے۔ کلیدی توجہ کے شعبوں میں ماحولیاتی استحکام، گرین ٹیکس اور سال 2027 کےآخر تک آئی ایم ایف کے پروگرام کے اختتام پرضروری شرائط کی تکمیل شامل ہیں۔بجٹ دستاویزات کو مئی کے آخر تک حتمی شکل دی جانی ہے۔جس کے بعد بجٹ کی وفاقی کابینہ سے منظوری کے ساتھ اسے جون کے پہلے ہفتے کے دوران پارلیمان میںپیش کئے جانے کی متوقع ہے۔
وزارت خزانہ کی رپورٹس کے مطابق فروری کے آخر میں وزارتوں اور حکومت کے ماتحت اداروں سے اخراجات کے تخمینے اور ترقیاتی منصوبوںکی تفصیلات موصول ہونے کے بعدبجٹ پر نظر ثانی کمیٹی نے گذشتہ دو ہفتوں کے دوران اپنے اجلاسوں کا سلسلہ مکمل کر لیا ہے۔اور اگلے مرحلے میں رواں ماہ کے آخر تک بجٹ کی حدوں کا تعین کرلیا جائے گا۔بعد ازاں مئی میں بجٹ دستاویزات کی حتمی تیاری کا عمل مکمل کیا جائے گا ۔ اسی دوران سالانہ پلان کوآرڈی نیشن کمیٹی (اے پی سی سی) کا اجلاس مئی 2026 کے پہلے ہفتے میں اور اس کے بعد دوسرے ہفتے میں قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) کا اجلاس ہوگا۔
فنانس ڈویژن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال 2026-27کے بجٹ کی تجاویز کی تیاری کے ساتھ اب پارلیمانی منظوری کے بغیر کسی بھی قسم کی اضافی گرانٹس کے اجرا پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ تاکہ مالی نظم و ضبط کو یقینی بنایا جا سکے۔ حکومت نےآئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ شرائط کے تحت ملکی بجٹ سازی کے عمل میں وسیع تر اصلاحات لانےپر عملدرآمد شروع کر دیا ہے۔ یہی نہیں حکومت نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی ہے کہ حکومتی اخراجات اور بجٹ کے اہداف میں ہم آہنگی پیدا کی جائے گی۔ اس نئی حکمت عملی کا مقصد بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنا ہے تاکہ ملکی معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کیا جا سکے۔اب آئی ایم ایف کا ایک خصوصی وفد جلد پاکستان پہنچ کر بجٹدستاویزات کا جائزہ لے گا۔
آئندہ مالی سال 2026-27میں مختلف مدات کے لئے مختص کی جانے والی رقومات کے حوالے سے وزارت خزانہ کے ذرائع کا کہنا تھا کہ ملکی دفاع حسب سابق سب سے اہم ہے ۔ملک کی مشرقی اور مغربی سرحدوں کی ابترصورتحال کو دیکھتے ہوئے ایک مرتبہ پھر دفاع کے لئے25کھرب روپے سے زائد رقم رکھی جائے گی ۔رواں مالی سال مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے باعث ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کرنا پڑی ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ آئندہ مالی سال کے دوران نہ صرف اس کمی کو پورا کیا جائے بلکہ شرح نمو کے اہداف کے حصول میں ترقیاتی منصوبوں سے بھی مدد حاصل کی جائے۔
یہ رپورٹس بھی سامنے آ رہی ہیں کہ مالی سال 2026-27میں برآمدی صنعتوں، رئیل اسٹیٹ اور آئی ٹی خصوصاً اے آئی سے متعلقہ اداروں کے لئے سہولیات، سپر ٹیکس سمیت دیگر ٹیکسوں میں چھوٹ اورملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ بھی بجٹ کا حصہ ہونگے۔












