لاہور( پاک ترک نیوز) دنیا بھر میں چینی کے متبادل کے طور پر استعمال ہونے والی مصنوعی مٹھاس کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے، خصوصاً ذیابیطس کے مریضوں اور وزن کم کرنے کے خواہش مند افراد میں اس کا استعمال عام ہو گیا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ مصنوعات کم حرارے فراہم کرتی ہیں، لیکن ان کا استعمال اعتدال میں ہونا چاہیے۔
ماہرین کے مطابق مصنوعی مٹھاس ایسے کیمیائی مرکبات ہیں جو عام چینی کے مقابلے میں کئی سو گنا زیادہ میٹھے ہوتے ہیں، لیکن ان میں حرارے نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ خون میں شکر اور انسولین کی سطح پر معمولی اثر ڈالتی ہیں۔
اس وقت اسپارٹیم، سوکرالوز، سیکرین، ایسی سلفیم پوٹاشیم، نیوٹیم اور ایڈوانٹیم دنیا بھر میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی مصنوعی مٹھاس میں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اسٹیویا اور مونک فروٹ جیسی پودوں سے حاصل ہونے والی قدرتی کم حراروں والی مٹھاس بھی مقبول ہو رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی مٹھاس وزن کم کرنے، ذیابیطس کے مریضوں میں خون میں شکر کو قابو میں رکھنے اور دانتوں کو چینی سے ہونے والے نقصان سے بچانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خبردار! یہ دوائیں خطرناک قرار، محکمہ صحت نے فوری استعمال روکنے کی ہدایت جاری کر دی
تاہم بعض تحقیقات میں یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ کچھ مصنوعی مٹھاس آنتوں میں موجود مفید جراثیم کے توازن کو متاثر کر سکتی ہیں، جبکہ بعض افراد میں ان کے استعمال سے سر درد، معدے کی خرابی یا ہاضمے کے مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح یہ بھی زیرِ تحقیق ہے کہ آیا مصنوعی مٹھاس میٹھی چیزوں کی خواہش یا جسمانی نظامِ ہضم پر طویل مدت میں کوئی منفی اثر ڈالتی ہے یا نہیں۔
ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ اگرچہ عالمی ادارے مصنوعی مٹھاس کو مقررہ مقدار میں محفوظ قرار دیتے ہیں، لیکن ان کا زیادہ استعمال مناسب نہیں۔ ان کے مطابق ہر فرد کو اپنی صحت، طبی ضروریات اور ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق مصنوعی مٹھاس کا انتخاب کرنا چاہیے، جبکہ متوازن غذا اور صحت مند طرزِ زندگی کو ہمیشہ ترجیح دینی چاہیے۔












