
از: سہیل شہریار
وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے مجموعی طور پر 171 کھرب روپے مالیت کے وفاقی بجٹ کی تجاویز کو حتمی شکل دے دی ہے ۔جس میں ٹیکس وصولیوں کا ہدف152کھرب 67ارب روپے۔ جبکہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے لئے (پی ایس ڈی پی)11کھرب روپے مختص کئے جانے کی تجویز ہے۔
حکومت نے بجٹ پیش کرنے کے لیے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے بجٹ اجلاس 5 جون کی شام طلب کر لیے ہیں۔جس سے قبل وفاقی کابینہ کا خصوصی بجٹ اجلاس5 جون کی صبح کو ہوگا ۔جو بجٹ تجاویز کی پارلیمان میں پیش کرنے کے لئے منظوری دے گا۔جبکہ رواں مالی سال کا سالانہ اقتصادی سروے 4 جون کو جاری کیا جائے گا۔
وزارت خزانہ کی بجٹ تیاری کی ذمہ دار فنانس ڈویژن کے ذرائع کے مطابق آنے والے مالی سال 2026-27کا وفاقی بجٹ بھی خسارے کا بجٹ ہو گا۔ جس میں 171کھرب روپے کے اخراجات کے مقابلے میں ٹیکسوں اور محصولات سے مجموعی اندرونی آمدن کا تخمینہ 155کھرب روپے تک لگایا گیا ہے۔اب تک کے ٹیکس ومحصولات وصولیوں کے اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ رواں مالی سال میں بھی ٹیکس وصولیوں کے اہداف حاصل نہیں ہو سکیں گے۔
وزارت خزانہ کے ذرائع نے مزید بتایا کہ2026-27کے بجٹ میں جی ڈی پی کی شرح نمو کا ہدف 4.1 فیصد اور اوسط مہنگائی 8.4 فیصد متوقع ہے۔ پیٹرولیم لیوی کا ہدف 1.72 کھرب روپے مقرر کیا گیا ہے۔ ٹیکس ریونیو کا ہدف 152.67 کھرب روپے اور غیر ٹیکس ریونیو کا تخمینہ 2.76 ارب روپے ہے ۔پی ایس ڈی پی کے تحت وفاقی ترقیاتی بجٹ 10.1 کھرب روپے رکھنے کی تجویز ہے ۔ جبکہ قرض پر سود کی ادائیگی کے لیے 7.8 کھرب روپے مختص کیے جا رہے ہیں۔ ملک کی مشرقی اور مغربی سرحدوں پر منڈلاتے خطرات کے باوجود دفاعی اخراجات کے لئے مختص رقم میں نمایاں اضافہ تجویز نہیں کیا گیااور انہیں 2.66کھرب روپے رکھنے کی تجویزدی گئی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ آئندہ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7سے10 فیصد اضافہ شامل کیا جا سکتا ہے۔ تاہم حکومت اور ملازمین کے درمیان بجٹ سے قبل تنخواہ اور پنشن ایڈجسٹمنٹ پر تنازعہ سامنے آ چکا ہے۔ سرکاری ملازمین مہنگائی کے پیش نظر تنخواہوں اور پنشن میں 100 فیصد تک اضافے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق گزشتہ چار ایڈہاک الاؤنسز میں سے بعض کو بنیادی تنخواہ میں ضم کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ جب کہ اس وقت سرکاری ملازمین کو چار مختلف ایڈہاک الاؤنسز بنیادی تنخواہ میں ضم کیے بغیر ادا کیے جا رہے ہیں۔اسکے علاوہ گریڈ ایک سے گریڈ 16 تک کے ملازمین کو ایک مرتبہ پھر ڈسپیرٹی الاؤنس دینے کی تجویز بھی تیار کی گئی ہے تاکہ سرکاری ملازمین کو مہنگائی کے اثرات سے کچھ ریلیف مل سکے۔جبکہ پنشن میں اضافے کیلئے گزشتہ دو برسوں کی اوسط مہنگائی کی شرح کو بنیاد بنانے کی تجویز دی گئی ہے۔ تاکہ ریٹائرڈ ملازمین کی مالی مشکلات کو کم کیا جا سکے۔












