Thursday , 23 July , 2026
  • Login
پاک ترک نیوز
  • Homepage
  • Latest
  • Pakistan
  • Turkey
  • World
  • game
  • Economy
  • Columns/Blogs
  • Technology
  • Education and health
No Result
View All Result
  • Homepage
  • Latest
  • Pakistan
  • Turkey
  • World
  • game
  • Economy
  • Columns/Blogs
  • Technology
  • Education and health
No Result
View All Result
پاک ترک نیوز
No Result
View All Result
Home Latest

78برسوں سے پاک امریکہ تعلقات نشیب و فراز کا شکار

1 year ago
A A
78برسوں سے پاک امریکہ تعلقات نشیب و فراز کا شکار
Share on FacebookWhatsApp

از: سہیل شہریار

قیام پاکستان کے بعد سے قائم پاک ۔ امریکہ تعلقات نے 78برسوں کے دوران بہت سے نشیب و فراز دیکھے ہیں۔ ہاں یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ دونوں ملکوں کے درمیان قابل اعتماد دوستی کبھی نہیں رہی۔ خصوصاً ہر مشکل وقت میںپاکستان کو استعمال کرکے آسانی میں چھوڑ دینا امریکہ کا وطیرہ رہا ہے ۔اور اس میں امریکہ میں انتہائی با اثر پاکستان مخالف ہندو اور صیہونی لابی کا ہاتھ ہے۔
پاکستان کے امریکہ کے ساتھ تعلقات کا آغاز 1947 میں ملک کی آزادی کے ساتھ ہوا۔پاکستان نے سرد جنگ کے دوران واشنگٹن کے ساتھ اتحاد کیا۔ تو اسکے نتیجے میں وہ سیٹو اور سینٹو جیسے علاقائی دفاعی اتحادوں میں امریکہ کا ساتھی بنا۔ افغانستان پر سوویت یونین کے حملے کے بعد پاکستان نے وہاں امریکی مقاصد کی حمایت کی۔یہ پاکستان ہی تھا جس نے روس کی ناراضگی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے امریکی مفادات کے تحفظ کے لئےآخری حد تک گیا۔ جس نے بالآخر ماسکو کو افغانستان سے اپنی فوجیں نکالنے پر مجبور کیا۔
مگر ہوا یہ کہ سوویت یونین کی شکست کے بعد امریکہ اپنے مغربی اتحادیوں سمیت افغانستان کو لاوارث چھوڑ کر چلتا بنا ۔ جبکہ پاکستان کو امریکہ کی مدد کرنے کا انعام کلاشنکوف کلچر اور دہشت گردی کی آگ کی شکل میں ملا۔ اور جب پاکستان نے طالبان کی صورت میں افغانستان میں استحکام کی صورت نکالی توامریکی دوستوں نے ہی دہشتگردی کے شکار پاکستان پر دہشتگردوں کی مدد کا الزام لگا کر معاشی ودیگر پابندیوں کی نذر کر دیا۔
چند برس بعد نیویارک میں نائن الیون کا اندوھناک واقعہ رونما ہو گیا ۔ اور امریکہ نے اپنے مغربی اتحادیوں کے ہمراہ دنیا بھر میں دہشتگردی کے خلاف جنگ کا آغاز کر دیا۔ یوں جنگ کی یہ آگ ایک مرتبہ پھر پاکستان کی مغربی سرحد پر افغانستان پہنچ گئی تو امریکہ کو اپنا بھولا ہوا دوست یاد آیا۔اور پاکستان اپنے علاقائی مفادات کو پس پشت ڈال کر دہشتگردی کے خلاف جنگ میں نہ صرف فرنٹ لائن اسٹیٹ بن گیا۔ ساتھ امریکہ اور نیٹو کا تزویراتی شراکت دار بھی قرار پایا۔
تاہم یہ رومانس بھی دیرپا ثابت نہیں ہوا۔ اور کابل میں طالبان کی جگہ کٹھ پیلی حکومت کو بٹھانے اور اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے ساتھ ہی امریکی ا سٹریٹجک کمیونٹی کے اندر بہت سے لوگوں نے پاکستان کے ایک قابل اعتماد سیکورٹی پارٹنر کے طور پر سوال اٹھانا شروع کر دئیے۔ جبکہ پاکستان کے دشمن بھارت کو افغانستان میں کھل کھیلنے کا لائسنس دے دیا۔تو پاکستان نے بھی بتدریج راہیں جدا کرنے کی تیاری شروع کر دی۔اگست 2021 میں طالبان کی اقتدار میں واپسی کے بعد تزویراتی شراکت داری مزید کم ہو گئی ۔جبکہ سابق صدر جوبائیڈن کے چار سالہ اقتدار میں پاک ۔امریکہ تعلقات نچلی ترین سطح پر آ گئے۔
مگر صدر ٹرمپ نے اقتدار میں آنے کے بعد اپنے امریکی کانگریس میں پہلے سٹیٹ آف دی یونین خطاب میں دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کو سراہنے کے ساتھ امریکی فوج کے افغانستان سے انخلا کے دوران کابل ائر پورٹ کے قریب ایبی گیٹ بم دھماکے کے مبینہ ملزم کو پکڑ کر امریکہ کے حوالے کرنے پر پاکستان کا شکریہ بھی ادا کیا۔جس سے دونوں ملکوں کے تعلقات نے پھر سے ایک خو ش گوا ر موڑ لے لیا۔ مئی کے معرکہ حق میں جنگ بندی کی امریکی صدر کی تجویز ماننے اور بعد ازاں ٹرمپ کی دعوت پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے امریکہ کے دورے نے ان تعلقات میں پھر سے جان ڈال دی ہے۔
اس دورے سے پانچ دن پہلے10 جون کو امریکی سینٹرل کمانڈسینٹ کام کے سربراہ جنرل مائیکل ای کریلا نے واشنگٹن میں ہاؤس آرمڈ سروسز کمیٹی کے سامنے اپنی گواہی میں تفصیل سے بتایا کہ کس طرح پاکستان کےتعاون کی وجہ سے ایبی گیٹ کے مشتبہ بمبار کو پکڑا گیا۔اس موقعہ پر جنرل کریلا نے کہا کہ پاکستان اس وقت انسداد دہشت گردی کی ایک فعال لڑائی میںہے۔ اور وہ انسداد دہشت گردی کی دنیا میں ایک غیر معمولی شراکت دار رہا ہے۔ مگر یہ وہ حقیقت ہے جسے امریکہ میں اعلیٰ سطح پر کم ہی تسلیم کیا جاتا ہے۔

https://www.youtube.com/watch?v=DLJGhOTK1aE&t=10s
امریکی تجزیہ کاروں کی رائے ہے کہ آنے والے دنوں میں دونوں ملکوں کے مابین باہمی فائدے کے کئی اقدامات سامنے آنے کی توقع ہے۔ پاکستان امریکہ کے ساتھ بغیر کسی ٹیرف کے تجارتی معاہدہ کرنے کے لئے تیار ہے۔ پاکستان نے امریکہ کو نایاب زمینی معدنیات کی پیشکش کی ہے جو کہ دفاع، روبوٹکس اور الیکٹرانکس جیسی صنعتوں کے لیے اہم ہیں۔پاکستان نے حال ہی میں کرپٹو کونسل بھی بنائی ہے اور سرمایہ کاری اور شراکت داری کو راغب کرنے کے لیے امریکی حکام سے بات چیت کی ہے۔
تاہم تجزیہ کار ایک بار پھر شروع ہونے والے پاک۔ امریکہ رومانس کے لمبے عرصے تک چلنے کے بارے میںزیادہ پر امید نہیں ہیں۔ کیونکہ بظاہر اب پاکستان کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ اپنی ہر مشکل کے ساتھی چین کو چھوڑ کر امریکہ کے ساتھ چلا جائے ۔ چنانچہ یہ سچ ہے کہ پاکستان ایک بار پھر ایک بڑے اسٹریٹجک انتخاب کے دہانے پر کھڑا ہے۔ اور یہی انتخاب پاک۔ امریکہ تعلقات کے مستقبل کا فیصلہ کرے گا۔

Tags: #america#economy#pakistan#relation
ShareSend

Related Posts

Pakistan condemns Houthi threat to Saudi Arabia.
Latest

پاکستان کی سعودی عرب کو حوثیوں کی دھمکی کی مذمت

22 July , 2026
US needs more funds for war with Iran
Latest

ایران سے جنگ کیلئے امریکہ کو مزید فنڈز درکار

22 July , 2026
Pakistan and Iran decide to enhance cooperation in counter-terrorism and anti-narcotics sectors.
Latest

پاکستان ،ایران کا انسداد دہشت گردی اور انسداد منشیات کی شعبوں میں اشتراک بڑھانے کا فیصلہ

22 July , 2026
The world acknowledges Pakistan's role as a mediator in the Iran-US conflict.
Latest

ایران امریکہ جنگ،پاکستان کے ثالثی کردار کی دنیا معترف

22 July , 2026
US crude oil stockpiles at 45-year low; petrol prices rise.
Latest

امریکہ میں خام تیل کے ذخائر 45سال کی کم ترین سطح پر ،پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ

21 July , 2026
Half of U.S. citizens have deemed Supreme Court decisions to be political.
Latest

امریکہ کے نصف شہری سپریم کورٹ کے فیصلوں سے ناخوش

20 July , 2026
Next Post
سندھ طاس معاہدہ تنازعہ، حکومت کا چناب ڈیم بنانے کا منصوبہ

سندھ طاس معاہدہ تنازعہ، حکومت کا چناب ڈیم بنانے کا منصوبہ

Read this too

پاکستان اور یورپی یونین کا شراکت داری مزید مضبوط بنانےکا عزم

پاکستان اور یورپی یونین کا شراکت داری مزید مضبوط بنانےکا عزم

22 July , 2026
حملہ ہوا تو خلیج میں امریکا سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے،ایران

حملہ ہوا تو خلیج میں امریکا سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے،ایران

22 July , 2026
مقبوضہ کشمیر میں بارشیں ،بھارت نے سیلابی ریلا پاکستان کی طرف چھوڑ دیا

مقبوضہ کشمیر میں بارشیں ،بھارت نے سیلابی ریلا پاکستان کی طرف چھوڑ دیا

22 July , 2026
حکومت سے مذاکرات کامیاب،پٹرول پمپ اونر ایسوسی ایش کا ہڑتال موخر کرنے کااعلان

حکومت سے مذاکرات کامیاب،پٹرول پمپ اونر ایسوسی ایش کا ہڑتال موخر کرنے کااعلان

22 July , 2026
China's advanced Y-9 anti-submarine aircraft has been unveiled.

چین کا جدید آبدوز شکن طیارہ Y-9منظر عام پر آ گیا

22 July , 2026

About Us

"Pak Turk News is an unbiased Urdu news website committed to delivering timely and authentic reports, analyses, and feature articles on important news from Pakistan, Turkey, and around the world to its Urdu-speaking readers. We offer a new perspective on Pak-Turk relations, global politics, economy, culture, and social issues, enabling readers to stay informed, conscious, and influential.

  • Homepage
  • Pakistan
  • Latest
  • Turkish
  • World
  • About Us
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Declaration of non-attachment
  • Contact

Follow us on social media

Facebook Twitter Instagram Youtube

Copyright 2026 © All publishing rights reserved by Pak Turk News. Reproduction without permission is prohibited.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Homepage
  • Latest
  • Pakistan
  • Turkey
  • World
  • game
  • Economy
  • Columns/Blogs
  • Technology
  • Education and health

Copyright 2026 © All publishing rights reserved by Pak Turk News. Reproduction without permission is prohibited.

English
Urdu