لاہور( پاک ترک نیوز) پٹرول مہنگا ہو تو زندگی سستی نہیں، بلکہ مشکل ہو جاتی ہے۔ حکومت کے نئے فیصلے نے عوام کی سانسیں روک دیں… آخر کب تک؟
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی کا نیا سیلاب عوام کو اپنی لپیٹ میں لینے لگا ، ٹرانسپورٹ ،اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو گیا ، مہنگائی سے ہر گھر متاثر ہور ہا ہے
پٹرول مہنگا ہونے سے عوام کا جینا دوبھر ہو گیا ، صرف سفر ہی نہیں… اشیائے خوردونوش بھی مہنگی ہو جاتی ہیں۔ سبزی، پھل، آٹا، چینی سمیت ہر چیز کی قیمت آسمان کو چھونے لگتی ہے۔ پٹرول مہنگا ہوتے ہی سب سے پہلا اثر ٹرانسپورٹ پر پڑتا ہے۔ رکشہ، بس اور ویگن کے کرائے بڑھ جاتے ہیں… جس کا بوجھ براہِ راست عام شہری پر آتا ہے۔ ماہرین کے مطابق پٹرول مہنگا ہونے سے پیداواری لاگت بڑھتی ہے۔ جس کے نتیجے میں صنعتوں سے لے کر دکانوں تک ہر چیز مہنگی ہو جاتی ہے۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے آفٹر شاکس شروع ہو گئے گڈز ٹرانسپورٹرز نے کرائے ساٹھ فیصد بڑھانے کا اعلان دیا ،اب پبلک ٹرانسپورٹ کے کرائے بھی بڑھیں گے۔
تنخواہ وہی ،خرچے دوگنے ہو گئے ،ہم جائیں تو جائیں کہاں ،عوام کی ہر جگہ دہائی ، ، عوام کا کہنا ہے پہلے ہی گزارا مشکل تھا، اب تو حالات مزید خراب ہو گئے،تنخواہ نہیں بڑھتی، صرف قیمتیں بڑھتی ہیں، حکومت نے ظلم کیا ، مہنگائی کا سونامی آئے گا، ،روز گار وہی ،خرچے دوگنے ہو گئے ،ہم کہاں جائیں ۔یہ مہنگائی نہیں، عوام کا معاشی قتل ہے۔عالمی حالات کا ڈھونگ رچایا گیا ،، اصل میں عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالا گیا۔
جماعت اسلامی نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ مسترد کر دیا ،ملک گیر تحریک چلانے کا بھی اعلان کر دیا گیا ہے ۔
درمیانے اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے یہ اضافہ کسی بڑے دھچکے سے کم نہیں… جہاں گھر کا بجٹ پہلے ہی دباؤ کا شکار تھا، اب مزید بگڑ گیا ہے۔پٹرول کی قیمت میں اضافہ صرف ایک عدد نہیں… بلکہ ایک ایسا فیصلہ ہے جو ہر شہری کی زندگی کو متاثر کرتا ہے۔ سوال یہ ہے… کیا عوام کو کبھی ریلیف ملے گا؟پٹرول مہنگا… تو ہر چیز مہنگی! آخر کب رکے گا مہنگائی کا یہ طوفان؟












