
از : سہیل شہریار
ایک جانب غزہ میں انسانی المیہ گھمبیر سے گھمبیر تر ہو رہا ہے۔تو دوسری جانب اسرائیل کے اندر سے غزہ کی جنگ کے حوالے سے سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان شدید اختلافات پیدا ہونے کی خبریں آنے لگی ہیں۔اسرائیلی میڈیاکے مطابق وزیر اعظم نیتن یاہو کی حکومت غزہ میں جاری جنگ کے مستقبل سے متعلق کئی راستوں پر غور کر رہی ہے، اور یہی معاملہ پیر کے روز ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں زیر بحث آیا۔
رپورٹس کے مطابق پہلا راستہ یہ ہے کہ حماس پر دباؤ بڑھانے اور قیدیوں کے معاملے میں رعائتیں حاصل کرنے کے لیے نئی فوجی کارروائی شروع کی جائے۔
دوسرا راستہ یہ ہے کہ غزہ میں حماس کے مرکزی کیمپوں کو محدود پیمانے پر گھیرے میں لیا جائے۔ تاہم یہ حکمت عملی انسانی امداد کی ترسیل کے تسلسل سے متعلق چیلنج پیدا کر سکتی ہے۔
تیسرا راستہ مکمل زمینی یلغار ہے۔ جس میں ان علاقوں میں بھی فوجی داخلہ شامل ہو گا جہاں اسرائیلی افواج پہلے نہیں گئیں۔
ادھر اسرائیلی میڈیا نے یہ بھی رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال زامیر نے کہا ہے کہ یہ ہفتہ فیصلہ کن ہو گا جس میں یہ طے ہو گا کہ حماس کے ساتھ قیدیوں کا تبادلہ ممکن ہے یا نہیں۔ زامیر کے یہ بیانات کابینہ کے اندر جاری اختلافات کے بیچ سامنے آرہے ہیں۔ بعض وزرا مکمل زمینی یلغار کے حق میں ہیں۔مگر ایال زامیر اس موقف کے مخالف ہیں اور مکمل جنگ میں الجھے بغیر محدود فوجی کارروائی کے حامی ہیں۔ تاکہ حماس پر دباؤ ڈالا جا سکے۔
https://www.youtube.com/watch?v=sNd5uJs0kYo&t=7s
اخباری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی سیکیورٹی اور عسکری ادارے مطالبہ کر رہے ہیں کہ سیاسی قیادت جنگ کے خاتمے یا اسے فوجی طریقے سے نمٹانے کے لیے فوری اور واضح فیصلہ کرے تاکہ بے یقینی کی کیفیت ختم ہو۔ ایال زامیر نے سیاسی قیادت کو خبردار کیا ہے کہ اگر فوج غزہ میں طویل عرصے تک رہی تو اس کی صلاحیتیں کمزور پڑ سکتی ہیں۔ انھوں نے سیاسی قیادت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں فوج کی حیثیت واضح کرے۔ فوج کے سربراہ نے اس بات پر زور دیا کہ وہ غزہ پر مکمل قبضے کے مخالف ہیں اور صرف گھیراؤ اور دباؤ کی کارروائیوں کے حق میں ہیں۔ زامیر نے کہا کہ غزہ میں طویل قیام فوج کو تھکا دے گا اور یہ چیز دراصل حماس کے کام آئے گی۔ جب کہ فوج کسی بھی قیمت پر قیدیوں کے تبادلے کے لیے تیار ہے۔
دریں اثناحماس کی جانب سے ان میڈیا رپورٹس کی سختی سے تردید بھی سامنے آچکی ہے جن میں امریکی ایلچی اسٹیو ویٹکوف نے دعویٰ کیا تھا کہ حماس نے اپنے ہتھیار ڈالنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ حماس نے واضح طور پر کہا ہے کہجب تک قابض اسرائیل کا وجود باقی ہے۔ فلسطینی مزاحمت اور اس کا اسلحہ ایک قومی اور قانونی حق ہے۔ جس کی توثیق عالمی قوانین اور مواثیق نے بھی کی ہے۔ ہم اپنے حقوق کی مکمل بحالی کے بغیر خاص طور پر ایک مکمل خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام اور اس کا دارالحکومت القدس کے بغیر اس مزاحمت سے دستبردار نہیں ہو سکتے۔












