اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں ایف بی آر حکام کو سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے ٹیکس دہندگان کا ڈیٹا طلب کر لیا، ایف بی آر حکام کے مؤقف پر برہمی کا اظہار کیا، سینیٹر دلاور نے بھی ایف بی آر اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر کڑی تنقید کی۔
سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے داخلہ ایف بی آر حکام پر برہم ہو گئی ،چیئرمین کمیٹی نے ٹیکس دہندگان کا ڈیٹا طلب کر لیا،ایف بی آر حکام نے کہا ڈیٹا فراہمی ہمارے لیے مشکل، کابینہ کی منظوری لازمی ہے ۔ وزارت قانون بتائے گی کہ وہ ڈیٹا ہم یہاں دے سکتے ہیں یا نہیں۔
چیئرمین کمیٹی نے آپ چیزوں کو مشکل بنا رہے ہیں، ڈیٹا آپ کو یہاں دینا ہو گا۔ آپ نہیں دیں گے تو آپ کے وزیراعظم یہاں ڈیٹا فراہم کریں گے۔ آپ چیزوں کو جہاں تک لے کہ جائیں گے ہم وہاں تک جائیں گے۔ وزیراعظم خود کہیں گے ایف بی آر نے جھوٹ کہا پھر مشکلات آپ کے لیے ہوں گی۔
کنوینئر کمیٹی سیف اللہ ابڑو نے سوال کیا قانون کون بناتا ہے،ایف بی آر حکام نے کہا پارلیمنٹ قانون بناتی ہے، سیف اللہ ابڑو نے کہا جب کسی ادارے کی چوری پکڑی جاتی ہے تو وہ اسی طرح بہانے بناتے ہیں۔
سینیٹر دلاور نے کہا وزیراعظم ،وزیر اطلاعات عطا تارڑ، وزیر دفاع خواجہ آصف سے جھوٹ بلوایا گیا، ،خدا کا خوف کریں، 26 کروڑ لوگوں کے ساتھ جھوٹ کیوں بولا گیا؟












