لاہور( پاک ترک نیوز) امریکی خلائی ادارے ناسا کے سیٹلائٹ نے بحرالکاہل میں بحرالکاہل میں سینکڑوں میل طویل گرم پانی کی لہر کی تصاویر ریکارڈ کر لیں ، جسے ماہرین طاقتور موسمی نظام ایل نینو کی ممکنہ واپسی کا واضح اشارہ قرار دے رہے ہیں۔ اگر یہ نظام مزید مضبوط ہوا تو دنیا کو شدید گرمی، خشک سالی، غیر معمولی بارشوں اور سیلاب جیسے موسمی خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ گرم پانی کی لہر، جسے کیلون ویو کہا جاتا ہے، بحرالکاہل کے خطِ استوا کے ساتھ سینکڑوں میل تک پھیلی ہوئی ہے۔ یہ لہر سمندر کی سطح میں معمول سے زیادہ بلندی پیدا کرتی ہے، جس کی بنیادی وجہ ایل نینو سے منسلک گرم پانی ہے۔
ایل نینو ایک ایسا موسمی نظام ہے جو بحرالکاہل کے پانی کے غیر معمولی گرم ہونے سے وجود میں آتا ہے، لیکن اس کے اثرات صرف سمندر تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری دنیا کے موسم کو متاثر کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کے کئی شہروں میں بارش
ایل نینو ایک قدرتی موسمی رجحان ہے جس کے دوران بحرالکاہل کے بعض حصوں کا پانی معمول سے زیادہ گرم ہو جاتا ہے، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں موسم کے پیٹرن متاثر ہوتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق موجودہ ایل نینو حالیہ تاریخ کے طاقتور ترین واقعات میں سے ایک ثابت ہو سکتا ہے۔طاقتور ایل نینو عالمی درجہ حرارت میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے، جس کے نتیجے میں مختلف خطوں میں شدید گرمی کی لہریں جنم لے سکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق بعض ممالک میں بارشیں معمول سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہیں جبکہ کچھ علاقوں کو خشک سالی اور پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی طاقتور ایل نینو کے دوران دنیا کے مختلف حصوں میں تباہ کن سیلاب، فصلوں کی تباہی، جنگلاتی آگ اور خوراک کے بحران آ چکے ہیں ۔
جنوبی ایشیا کے لیے بھی ایل نینو تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ مون سون بارشوں کے نظام کو متاثر کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں بعض علاقوں میں بارشیں کم جبکہ بعض مقامات پر غیر متوقع موسمی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔












