لاہور( پاک ترک نیوز) کیا آپ بغیر کسی بڑی بیماری کے بھی ہر وقت تھکن محسوس کرتی ہیں؟ بال مسلسل جھڑ رہے ہیں؟ نیند پوری ہونے کے باوجود جسم میں طاقت نہیں؟ اگر ایسا ہے تو شاید مسئلہ صرف مصروف زندگی نہیں بلکہ آپ کی عمر کے ساتھ بدلتی غذائی ضروریات ہیں۔ ماہرینِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ خواتین کی زندگی کے ہر مرحلے میں جسم کو مختلف وٹامنز اور معدنیات درکار ہوتے ہیں، اور ان کی کمی خاموشی سے صحت کو اندر ہی اندر کھوکھلا کرتی رہتی ہے۔ ہماری خصوصی رپورٹ میں جانیے کہ کس عمر میں کون سی غذائی کمی سب سے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
عمر بڑھنے کے ساتھ صرف چہرہ ہی نہیں بدلتا بلکہ جسم کی غذائی ضروریات بھی تبدیل ہو جاتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خواتین اپنی عمر کے مطابق خوراک کا انتخاب نہ کریں تو بظاہر معمولی دکھائی دینے والی کمزوریاں مستقبل میں سنگین طبی مسائل کا سبب بن سکتی ہیں۔
20 سال کی عمر… زندگی کا سب سے متحرک دور، لیکن یہی وہ مرحلہ ہے جہاں آئرن اور فولیٹ کی کمی سب سے زیادہ سامنے آتی ہے۔ آئرن کی کمی جسم کو تھکا دیتی ہے، ذہنی توجہ متاثر کرتی ہے اور روزمرہ کے معمولات کو مشکل بنا دیتی ہے۔ جبکہ فولیٹ نئے خلیات کی تشکیل، خون بنانے اور مستقبل میں صحت مند حمل کے لیے نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں تیز بارش سے نشیبی علاقے ڈوب گئے
40 سال کی عمر کے بعد خواتین کے جسم میں ہارمونز تیزی سے تبدیل ہونے لگتے ہیں۔ اس مرحلے پر میگنیشیئم، وٹامن ڈی اور کیلشیئم کی ضرورت بڑھ جاتی ہے۔ ان غذائی اجزاء کی کمی نیند کی خرابی، پٹھوں میں کھچاؤ، بے چینی اور ہڈیوں کی کمزوری کا سبب بن سکتی ہے، جبکہ آسٹیوپوروسس کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔
60 سال کی عمر کے بعد جسم پہلے جیسی مؤثر طریقے سے غذائی اجزاء جذب نہیں کر پاتا۔ اس لیے وٹامن بی 12 اور اومیگا تھری فیٹی ایسڈز کی کمی عام ہو جاتی ہے۔ وٹامن بی 12 اعصاب، یادداشت اور جسمانی توانائی کے لیے ضروری ہے، جبکہ اومیگا تھری دل، دماغ اور جوڑوں کی صحت برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
ماہرینِ امراضِ نسواں کا کہنا ہے کہ بہت سی خواتین تھکن، بالوں کے جھڑنے، موڈ میں تبدیلی، چکر آنے یا کمزوری کو معمول کا حصہ سمجھ کر نظر انداز کر دیتی ہیں، حالانکہ یہی علامات جسم میں کسی اہم غذائی کمی کا ابتدائی انتباہ ہو سکتی ہیں۔
ماہرین واضح کرتے ہیں کہ صرف ملٹی وٹامن کھا لینا کافی نہیں۔ ہر خاتون کو اپنی عمر، طبی حالت اور خون کے ٹیسٹ کے نتائج کے مطابق ڈاکٹر کے مشورے سے غذائی سپلیمنٹس اور متوازن خوراک اختیار کرنی چاہیے۔ بروقت تشخیص اور مناسب غذا نہ صرف بیماریوں سے بچا سکتی ہے بلکہ بڑھتی عمر میں بھی ہڈیوں، دل، دماغ اور مجموعی صحت کو مضبوط رکھنے میں مدد دیتی ہے۔
خواتین کی صحت صرف آج کا نہیں بلکہ آنے والے کل کا سرمایہ ہے۔ اس لیے تھکن، کمزوری یا بالوں کے جھڑنے جیسی علامات کو معمولی نہ سمجھیں۔ اپنی عمر کے مطابق غذائی ضروریات پوری کریں، باقاعدگی سے طبی معائنہ کروائیں اور صحت مند غذا کو اپنی روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بنائیں… کیونکہ بروقت احتیاط ہی صحت مند زندگی کی ضمانت ہے۔












