بیجنگ ( پاک ترک نیوز) کیا چین نے فضائی جنگ کا نقشہ بدلنے کی تیاری کر لی ہے؟ کیا امریکی فضائی برتری کو پہلی بار حقیقی چیلنج ملنے والا ہے؟ اور آخر جے-36 میں ایسی کون سی نئی تبدیلیاں کی گئی ہیں جنہوں نے دفاعی ماہرین کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے؟ آج کے اس خصوصی تجزیاتی پیکیج میں ہم انہی سوالات کے جواب تلاش کریں گے۔
چین کے جدید اسٹیلتھ جنگی طیارے جے-36 کی نئی تصاویر نے عالمی دفاعی حلقوں میں ہلچل مچا دی ۔ ماہرین کے مطابق اس بار صرف معمولی تبدیلیاں نہیں بلکہ طیارے کے بنیادی ڈیزائن میں نمایاں تکنیکی بہتریاں کی گئی ہیں۔
سب سے اہم تبدیلی اس کے ہوا داخل کرنے والے انٹیکس میں دیکھی گئی ہے۔ انٹیکس کا نیا ڈیزائن نہ صرف انجن کی کارکردگی بہتر بناتا ہے بلکہ ریڈار کی شعاعوں کو بھی کم منعکس کرتا ہے، جس سے دشمن کے ریڈار کے لیے طیارے کا سراغ لگانا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ترکیہ کے کان جیٹ کے لئے امریکی انجنوں کی فراہمی کی راہ ہموار ہو گئی
اسی طرح طیارے کی ایروڈائنامک ساخت کو بھی تبدیل کیا گیا ہے تاکہ وہ زیادہ رفتار، زیادہ استحکام اور زیادہ خاموش انداز میں پرواز کر سکے۔
جے-36 کا سب سے منفرد پہلو اس کا غیر روایتی ڈیزائن ہے۔یہ روایتی لڑاکا طیاروں کی طرح دم نہیں رکھتا بلکہ بغیر دم کےڈ یزائن پر مبنی ہے، جو اسٹیلتھ ٹیکنالوجی میں اہم سمجھا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ اس میں تین طاقتور انجن نصب کیے گئے ہیں، جو اسے طویل فاصلے تک بھاری ہتھیاروں کے ساتھ پرواز کرنے اور زیادہ رفتار برقرار رکھنے کی صلاحیت دے سکتے ہیں۔
اگر جے-36 واقعی چھٹی نسل کا طیارہ ثابت ہوتا ہے تو یہ صرف ایک نیا جنگی جہاز نہیں بلکہ فضائی جنگ کے تصور میں ایک بڑی تبدیلی ہوگی۔
ماہرین کے مطابق چھٹی نسل کے جنگی طیاروں میں یہ خصوصیات شامل ہو سکتی ہیں ،ان میں انتہائی کم ریڈار سگنیچر،مصنوعی ذہانت پر مبنی جنگی نظام۔ڈرونز کے ساتھ مشترکہ آپریشن۔سپر کروز یعنی آفٹر برنر کے بغیر طویل فاصلے تک انتہائی رفتار۔جدید الیکٹرانک وارفیئر۔اندرونی ہتھیاروں کی بڑی گنجائش شامل ہے
جون 2026 میں جے-36 کی سرکاری ویڈیو جاری کیے جانے اور مسلسل نئی تصاویر سامنے آنے کو دفاعی ماہرین محض اتفاق نہیں سمجھتے۔
ماہرین کے مطابق چین دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ وہ صرف کاغذی منصوبے نہیں بنا رہا بلکہ جدید ترین فضائی طاقت کو عملی شکل دے رہا ہے۔یہ بھی واضح اشارہ ہے کہ بیجنگ اب مستقبل کی جنگوں کی تیاری میں امریکا کے برابر کھڑا ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔
امریکا اس وقت اپنے چھٹی نسل کے پروگرام این جی اے ڈی پروگرام پر کام کر رہا ہے۔ اگر چین جے-36 کو جلد عملی سروس میں لے آتا ہے تو واشنگٹن پر دباؤ بڑھ سکتا ہے کہ وہ اپنے پروگرام کی رفتار مزید تیز کرے۔
دفاعی ماہرین کا خیال ہے کہ آنے والے برسوں میں فضائی برتری کی نئی دوڑ امریکا اور چین کے درمیان سب سے اہم دفاعی مقابلہ بن سکتی ہے۔
ہند بحرالکاہل خطہ پہلے ہی دنیا کا سب سے حساس عسکری خطہ بن چکا ہے۔تائیوان، جنوبی بحیرہ چین، جاپان، فلپائن اور گوام جیسے علاقوں میں امریکی اور چینی افواج مسلسل سرگرم ہیں۔
اگر جے-36 اپنی متوقع صلاحیتوں کے مطابق ثابت ہوتا ہے تو چین ان علاقوں میں زیادہ مؤثر فضائی موجودگی قائم کر سکتا ہے، جس سے خطے میں طاقت کا توازن متاثر ہو سکتا ہے۔
اب تک سامنے آنے والی زیادہ تر معلومات تصاویر، ویڈیوز اور دفاعی تجزیوں پر مبنی ہیں۔ چین نے اس طیارے کی مکمل تکنیکی تفصیلات، رفتار، ریڈار صلاحیت، ہتھیاروں کی گنجائش اور آپریشنل کارکردگی سے متعلق محدود معلومات ہی جاری کی ہیں۔
اس لیے جے-36 کی حقیقی صلاحیت کا اندازہ اسی وقت ہوگا جب یہ مکمل آزمائش کے بعد باقاعدہ فضائیہ کا حصہ بن جائے گا۔
فضائی جنگ کی دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، اور جے-36 اس تبدیلی کی سب سے نمایاں علامت بن کر سامنے آ رہا ہے۔ اگر چین اس منصوبے کو کامیابی سے مکمل کر لیتا ہے تو نہ صرف ایشیا بلکہ پوری دنیا کی دفاعی حکمتِ عملی پر اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
آنے والے چند برس یہ طے کریں گے کہ آیا جے-36 واقعی فضائی جنگ کا نیا بادشاہ بنتا ہے یا پھر یہ صرف طاقت کے عالمی مقابلے کا ایک اور اہم باب ثابت ہوتا ہے۔







