بیجنگ ( پاک ترک نیوز) ذرا تصور کریں کہ جنگی طیارہ آسمان میں پرواز کر رہا ہے، اس کا ریڈار سینکڑوں کلومیٹر دور موجود ہدف کو تلاش کر رہا ہے لیکن اچانک اصل دشمن میزائل نہیں بلکہ حرارت بن جاتی ہے۔ جی ہاں، جدید سپر ریڈارز کی سب سے بڑی کمزوری فزکس نہیں بلکہ “ویسٹ ہیٹ” یعنی حد سے زیادہ پیدا ہونے والی حرارت ہے۔اب چین نے اس مسئلے کا توڑ نکال لیا ہے۔
چین کی معروف یونیورسٹی کے محققین کی ٹیم کا کہنا ہے کہ انہوں نے جدیدگیلئم نائٹرائیڈ چِپس میں پیدا ہونے والی حرارت کو تیزی سے خارج کرنے کا طریقہ دریافت کر لیا ہے۔یہ وہی سیمی کنڈکٹر ہے جو جدید AESA ریڈارز میں استعمال ہو رہا ہے، جیسے چین کے اسٹیلتھ طیارے جبکہ امریکہ اپنے F-35 میں بھی یہ کام کر رہا ہے۔
مسئلہ یہ تھا کہ جیسے ہی پاور بڑھائی جاتی، چِپ کے اندر ایک باریک تہہ حرارت کے اخراج میں رکاوٹ بن جاتی تھی۔ نتیجہ؟ “ہاٹ اسپاٹس” بنتے، کارکردگی کم ہوتی اور ریڈار اپنی نظریاتی حد تک پہنچنے سے پہلے ہی رک جاتا۔چینی محققین کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس تہہ کو ہموار اور یکساں بنا دیا ہے، جس سے تھرمل ریزسٹنس تقریباً ایک تہائی کم ہو گئی۔ دعویٰ ہے کہ اسی سائز اور پاور میں ریڈار آؤٹ پٹ تقریباً 40 فیصد بڑھ سکتا ہے۔ اس کا مطلب ہے:زیادہ دور تک ہدف کی نشاندہی بہتر ریزولوشن جامنگ کے خلاف زیادہ مزاحمت تیز رفتار اہداف کی بہتر ٹریکنگ اس پیش رفت کا جغرافیائی سیاست سے بھی گہرا تعلق ہے۔
چین پہلے ہی گیلئم کی عالمی پیداوار میں سبقت رکھتا ہے اور اسٹریٹجک برآمدات پر کنٹرول سخت کر چکا ہے۔ اگر یہ ٹیکنالوجی بڑے پیمانے پر کامیاب ہو جاتی ہے تو اگلی نسل کے ریڈار اور حتیٰ کہ 6G انفراسٹرکچر میں بھی چین کو برتری مل سکتی ہے۔لیکن سوال یہ ہے: کیا باقی دنیا بھی یہی ٹیکنالوجی جلد اپنا لے گی؟ یا واقعی ریڈار کی جنگ میں چین سب سے آگے نکل چکا ہے؟












