اگرچہ ایران پر فضائی حملہ یقیناً تباہ کن ہوگا، لیکن اصل مقابلہ سمندر میں ہوگا، جہاں ایران کا چھوٹے تیز رفتار جہازوں پر مشتمل بحری بیڑا بڑے جنگی جہازوں کی طاقت کو چیلنج کرتا ہے۔ اس شعبے میں ایران غیر متوازن جنگ کے لیے وسیع ہتھیاروں کے ذخیرے کے ساتھ مضبوط پوزیشن میں ہے۔
جنگ تیزی سے قریب آ رہی ہے۔ ایران میں صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے، امریکہ مزید عسکری وسائل بھیج رہا ہے اور غالب امکان ہے کہ وہ اسرائیل کو بھرپور طور پر مسلح کرے گا۔
گزشتہ تنازع میں اسرائیل نے اپنا پورا حملہ فضاء سے داغے جانے والے میزائلوں کے ذریعے کیا تھا، لیکن ملک کے پاس جیریکو میزائل کے ایسے ماڈلز بھی موجود ہیں جو اسرائیلی سرزمین سے ایران کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔آیا یہ میزائل دوہری صلاحیت رکھتے ہیں اور کیا یہ روایتی وارہیڈز سے لیس ہیں۔
پچھلے تنازع کے بعد اسرائیل نے اسلحہ سازی، خاص طور پر دفاعی انٹرسیپٹر میزائلوں کی پیداوار بڑھانے میں نمایاں سرمایہ کاری کی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل اس بار پہلے سے بڑی قوت تعینات کر سکتا ہے، ممکنہ طور پر زمین سے زمین تک مار کرنے والے میزائل بھی شامل ہوں، اس کے علاوہ وہ 170 سے 200 طیارے بھی استعمال کر سکتا ہے جن کے استعمال کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔امریکہ نے جنوری سے جنگ کی تیاری کے سلسلے میں تقریباً 250 کارگو پروازیں بھیجی ہیں، تاہم یہ تعداد اس سے کم ہے جو ایران پر حملوں کے دوران اسرائیل کی حمایت میں بھیجی گئی تھی، شاید اس لیے کہ سمندری راستے سے بھی ترسیل کی گئی ہو گی۔
امریکہ کے پاس خطے میں اپنے زمینی اڈوں پر تقریباً 150 جنگی طیارے موجود ہیں، جس کا مطلب یہ ہوگا کہ اگر بحری فضائیہ ابتدائی مرحلے میں شامل نہ ہو تو مجموعی تعداد 300 سے 350 طیاروں تک پہنچ سکتی ہے۔ اگر بحری جنگی فضائیہ کو بھی شامل کر لیا جائے تو یہ تعداد تقریباً 500 تک پہنچ سکتی ہے۔












