بیجنگ ( پاک ترک نیوز) بیجنگ میں ہونے والی بڑی ملاقات نے عالمی سیاست کے کئی بند دروازے کھول دیئے۔۔۔ امریکا اور چین، جو برسوں سے تجارتی جنگ، تائیوان تنازع اور اسٹریٹجک مقابلے میں آمنے سامنے تھے، اب ایران بحران اور آبنائے ہرمز کے معاملے پر ایک دوسرے کے قریب دکھائی دے رہے ہیں۔۔۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ وقتی مفاہمت ہے یا عالمی طاقتوں کے درمیان نئے اتحاد کی بنیاد؟
بیجنگ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی ملاقات صرف ایک سفارتی ملاقات نہیں تھی بلکہ یہ ایک ایسے وقت میں ہوئی جب مشرق وسطیٰ جنگ کے دہانے پر کھڑا ہے، عالمی معیشت دباؤ کا شکار ہے اور دنیا توانائی کے شدید خدشات سے گزر رہی ہے۔
اس ملاقات کا سب سے اہم پہلو آبنائے ہرمز تھا۔۔۔ دنیا کی تیل سپلائی کا بڑا حصہ اسی سمندری راستے سے گزرتا ہے۔۔۔ اگر آبنائے ہرمز بند ہوتی ہے تو نہ صرف عالمی تیل منڈی ہل سکتی ہے بلکہ امریکا، چین، یورپ اور ایشیائی معیشتوں کو شدید جھٹکا لگ سکتا ہے۔
امریکا اور چین کے صدور کے درمیان ملاقات میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال ، آبنائے ہرمز ،اور تائیوان تنازع سمیت کئی حساس معاملات زیر بحث آئے ، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین سے مدد مانگ لی۔۔۔ صدر شی جن پنگ نے تعاون کا ہاتھ بڑھا دیا مگر ساتھ ہی تائیوان پر سخت انتباہ بھی دے دیا۔
چینی صدر سے ملاقات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا چینی صدر نے آبنائے ہرمز کھلوانے میں مدد کی پیشکش کی ہے۔۔ چین ایران سے بھاری مقدار میں تیل خریدتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ آبنائے ہرمز کھلی رہے۔۔۔ امریکی صدر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ چین ایران کو فوجی سازوسامان فراہم نہیں کرے گا ۔ وائٹ ہاؤس نے ملاقات کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا دونوں رہنماؤں نے آبنائے ہرمز کھلی رکھنے اور اقتصادی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔
دوسری جانب چینی صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ چین اور امریکا کو حریف نہیں بلکہ شراکت دار ہونا چاہیئے۔۔ دونوں ممالک کے درمیان باہمی احترام ہی تعلقات کی بنیاد بن سکتا ہے۔
صدر شی جن پنگ نے تائیوان مسئلے کو چین امریکا تعلقات کا سب سے اہم اور حساس معاملہ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر اس مسئلے کو درست انداز میں نہ سنبھالا گیا تو دونوں ممالک کشیدگی کی طرف جا سکتے ہیں۔۔۔ چینی صدر نے کہا کہ دنیا ایران تنازع سمیت سنگین چیلنجز سے گزر رہی ہے اور ان بحرانوں کا حل صرف سفارتکاری اور مذاکرات میں ہے۔
ادھر ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے ایران کے مسئلے کا کوئی فوجی حل موجود نہیں۔۔۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے تیار ہے لیکن سفارتکاری کے تحفظ اور فروغ کے لیے بھی آمادہ ہے۔ آبنائے ہرمز تمام تجارتی جہازوں کے لیے کھلی ہے تاہم جہازوں کو ایرانی بحری افواج کے ساتھ تعاون کرنا ہوگا۔
برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب نے مشرق وسطیٰ کے ممالک اور ایران کے درمیان عدم جارحیت معاہدے کی تجویز پیش کر دی ہے۔۔۔ سفارتی ذرائع کے مطابق سعودی عرب اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ اس تجویز پر مشاورت کر رہا ہے تاکہ جنگ کے بعد خطے میں کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔برطانوی اخبار کا کہنا ہے کہ سفارتکار کے مطابق یہ سب اس بات پر منحصر ہے کہ معاہدے میں کون شامل ہوگا، موجودہ حالات میں ایران اور اسرائیل کو ایک ساتھ لانا ممکن نہیں لگتا، اسرائیل شامل نہ ہوا تو یہ معاہدہ الٹا نقصان دہ بھی ہو سکتا ہے۔
سفارتی حلقوں کے مطابق خلیجی ریاستوں کو خدشہ ہے کہ جنگ کے بعد ایران مزید سخت گیر رویہ اختیار کرسکتا ہے جبکہ خطے میں امریکی فوجی موجودگی میں ممکنہ کمی بھی تشویش کا باعث بن رہی ہے۔۔۔ تاہم سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں ایران اور اسرائیل کو ایک ہی معاہدے کا حصہ بنانا آسان نہیں ہوگا۔
بیجنگ میں ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ دنیا کے بڑے بحران اب صرف جنگ سے نہیں بلکہ سفارتکاری، مذاکرات اور عالمی طاقتوں کی مفاہمت سے ہی حل ہو سکتے ہیں۔۔۔ سوال یہ ہے کہ کیا امریکا، چین، ایران اور خلیجی ممالک مل کر مشرق وسطیٰ کو ایک نئی جنگ سے بچا پائیں گے یا دنیا ایک نئے عالمی تصادم کے دہانے پر کھڑی ہے؟












