لندن : (پاک ترک نیوز)سائنسدانوں نے ایک سادہ، شفاف جیل کی مدد سے بینائی بحال کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ یہ جیل، جسے سرجری کے دوران پہلے بھی استعمال کیا جاتا رہا ہے، آنکھ کے اندر کم دباؤ کی وجہ سے سکڑنے والی آنکھوں کو اپنی اصل شکل میں واپس لانے میں مدد دیتی ہے۔
آنکھ کے اندر دباؤ کم ہونے سے آنکھ کی دیوار اندر کی طرف جھک جاتی ہے اور ریٹینا اور لینس کی سیدھ بگڑ جاتی ہے، جس سے نظر دھندلی ہو جاتی ہے۔ اس حالت کو ڈاکٹر ہائپوٹونی کہتے ہیں۔
اگر آنکھ کی شکل لمبے عرصے تک خراب رہے تو بعد میں بینائی بحال کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ڈاکٹر ہیری پیٹروشکن کے مطابق، جیل کو آنکھ میں برقرار رکھنے سے آنکھ کے اندر کے حصے اتنی دیر کھلے رہے کہ وہ دوبارہ درست ہو گئے اور وقت کے ساتھ مستحکم ہو گئے۔
انہوں نے بتایا کہ بار بار انجکشن کے ذریعے آنکھ کی اصل شکل واپس لائی گئی اور نظر بہتر ہوئی۔ اس طریقے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ صرف ٹیسٹ میں نظر کے نمبر بڑھانے تک محدود نہیں، بلکہ لوگوں کی روزمرہ زندگی پر بھی مثبت اثر ڈالتا ہے۔ آنکھ کی صحیح شکل واپس آنے سے کام کرنے، کھیلنے اور روزمرہ کی سرگرمیاں کرنے میں سہولت ملتی ہے۔
یہ جیل شفاف ہونے کے ساتھ آنکھ کے نازک حصوں کو بھی محفوظ رکھتی ہے اور روشنی کو گزرنے دیتی ہے، جس سے ڈاکٹر آنکھ کے اندر دیکھ کر حالت کا جائزہ لے سکتے ہیں۔ پہلے اس مقصد کے لیے سلیکون آئل استعمال ہوتا تھا، لیکن اس کے استعمال سے آنکھ میں پیچیدگیاں اور دھندلا نظر آنا عام تھا۔
ابتدائی تجربات میں چند مریضوں کو عارضی مسائل جیسے آنکھ میں سوزش یا عارضی بینائی کی کمی کا سامنا کرنا پڑا، مگر یہ جلد ٹھیک ہو گئے۔
اب سائنسدان اس طریقے کو بڑے پیمانے پر آزمانے کی تیاری کر رہے ہیں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ یہ محفوظ اور دیرپا ہے اور کس حد تک ہر آنکھ میں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔یہ تحقیق British Journal of Ophthalmology میں شائع ہوئی ہے۔












