اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) پاکستانی ایرو سپیس کمپنی Woot Tech Aerospace نے تیار کردہ ٹربوجیٹ انجن سے چلنے والا یک طرفہ جدید حملہ آور ڈرون متعارف کرا دیا ۔ جدید ڈرون نرم، نیم مضبوط اور متحرک اہداف پر گہرے حملوں کے لیے تیار کیا گیا ،ٹربو جیٹ ڈرون 250 کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ دفاعی تجزیاتی ادارے کے مطابق یہ ابھرتے ہوئے ون وے ایفیکٹر شعبے میں کم لاگت والے جدید ہتھیاروں میں شمار ہوتا ہے۔
Woot Tech Aerospace کی بنیاد 2021 میں رکھی گئی تھی۔ کمپنی نے ابتدا میں زرعی اور سروے مقاصد کے لیےہائبرڈ ڈرون تیار کیے ،بعد میں مسلح ملٹی روٹر ڈرونز بھی بنائے گئے ،اس کے بعد کروز میزئل اور ڈرون سوارم سسٹم کو منصوبے کا حصہ بنایا گیا ۔
ہائی مارک 25 ڈرون میں پسٹن اور پروپیلر انجن استعمال ہوتا تھا، تاہم نئے ہائی مارک 25 ٹی جے میں پچیس کلوگرام تھرسٹ والا ٹربوجیٹ انجن نصب کیا گیا یہی رجحان روس کے Geran-3 اور Geran-5 ڈرونز میں بھی دیکھا گیا، جو زیادہ رفتار اور فضائی دفاع سے بچاؤ کے لیے بنائے گئے۔
ہائی مارک پچیس ٹی جے کا زیادہ سے زیادہ وزن ستر کلو گرام ہے ،اس کی لمبائی تین میٹر ،ونگ اسپین ڈھائی میٹر ،اس میں ایندھن کی گنجائش تیس کلو گرام ہے،ڈرون پچیس کلو گرام وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ڈرون کی پرواز کا دورانیہ ساٹھ منٹ اور رینج ڈھائی سو کلو میٹر ہے ،،یہ ڈرون موبائل گراؤنڈ یا گاڑیوں پر نصب ریل لانچرز سے فائر کیا جا سکتا ہے، جن میں پک اپ ٹرک اور ہلکی عسکری گاڑیاں شامل ہیں۔
جدید ڈرون میں آئی این ایس ،جی پی ایس نیویگیشن ،خودکار روٹ پلاننگ ،الیکٹرو آپٹیکل سینسر ،محفوظ ڈیٹا لنک جیسی صلاحیتیں موجود ہیں ۔
ہائی مارک پچیس ٹی جے خودکار لوئٹر اینڈ اسٹرائیک مشنز کے لیے ڈیزائن کیا گیا یہ پہلے سے طے شدہ راستے پر ہدف کے قریب پہنچ کر ایک گھنٹے تک فضا میں گردش کر سکتا ہے اور پھر اے آئی کی مدد سے ہدف پر حملہ کرتا ہے۔
یہ ڈرون اجتماعی حملوں کے لیے بھی بنایا گیا ، جہاں متعدد ڈرون ایک دوسرے کے ساتھ حقیقی وقت میں معلومات شیئر کرتے ہوئے مختلف سمتوں سے بیک وقت حملہ کرتے ہیں تاکہ دشمن کے فضائی دفاعی نظام کو ناکارہ بنایا جا سکے۔
پاکستان میں اس وقت کئی ادارے جیٹ پاورڈ لوئٹرنگ میونیشنز پر کام کر رہے ہیں ان میں GIDS، AIR WEAPONS COMPLEX اور National Aerospace Science and Technology Park شامل ہیں ۔
کمپنی کے مطابق یہ ڈرون اینٹی جیمنگ صلاحیت رکھتا ہے،الیکٹرانک وارفیئر ماحول میں کام کر سکتا ہے،ماہرین کے مطابق اس منصوبے سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں کم لاگت،بڑی تعداد میں تیار کیےجانے والےجدید ڈرون ہتھیاروں کی تیاری میں نجی شعبہ بھی اب تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے












