لاہور( پاک ترک نیوز) 29 جون کی رات آسمان ایک ایسا دلکش منظر پیش کرنے جا رہا ہے جو شوقین افراد کو اپنی جانب متوجہ کر لے گا۔ جون کا مکمل چاند، جسے دنیا بھر میں ’’اسٹرابیری مون‘‘ کہا جاتا ہے، اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ افق پر نمودار ہوگا اور رات کے حسن کو دوبالا کر دے گا۔
ماہرین کے مطابق یہ مکمل چاند 29 جون کو اپنے عروج پر پہنچے گا اور موسمِ گرما کے آغاز کے بعد نظر آنے والا پہلا فل مون ہوگا، جس کے باعث اس کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ’’اسٹرابیری مون‘‘ نام سن کر اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ چاند سرخ یا گلابی رنگ اختیار کر لیتا ہے، لیکن حقیقت اس سے مختلف ہے۔ اس نام کا تعلق چاند کے رنگ سے نہیں بلکہ ایک قدیم ثقافتی روایت سے ہے۔
تاریخی روایات کے مطابق شمالی امریکا کے مقامی قبائل جون کے آخر میں اسٹرابیری کی فصل پکنے کے موسم کو خاص اہمیت دیتے تھے، اسی مناسبت سے انہوں نے اس مکمل چاند کو ’’اسٹرابیری مون‘‘ کا نام دیا۔ وقت کے ساتھ مختلف علاقوں میں اسے بیریز رائپ مون، بلومنگ مون، گرین کارن مون اور دیگر ناموں سے بھی پکارا جانے لگا۔
یہ بھی پڑھیں: فلاور مون کے بعد بلیو مون ،قدرت کا حیران کن کرشمہ
اب سوال یہ ہے کہ اس خوبصورت منظر کا بہترین نظارہ کیسے کیا جا سکتا ہے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ چاند دیکھنے کے لیے ایسی جگہ کا انتخاب کریں جہاں افق کھلا اور آسمان صاف ہو۔ پارکس، کھلے میدان، دیہی علاقے یا ساحلی مقامات اس کے لیے بہترین ثابت ہو سکتے ہیں۔
اگرچہ شہری علاقوں میں بھی یہ چاند نظر آئے گا، لیکن روشنی اور فضائی آلودگی سے دور مقامات پر اس کا منظر کہیں زیادہ واضح، روشن اور دل موہ لینے والا محسوس ہوگا۔
تو اگر آپ فلکیاتی مناظر کے شوقین ہیں تو 29 جون کی رات آسمان کی جانب دیکھنا مت بھولیے، کیونکہ ’’اسٹرابیری مون‘‘ ایک یادگار نظارہ پیش کرنے والا ہے۔












