
از: سہیل شہریار
تمام مسجدوں میں سب سے افضل مسجد حرام ہے اورساری مساجد کا قبلہ خانۂ کعبہ ہے ۔اور یہی اللہ کی عبادت کے لیے روئے زمین پر سب سے پہلا گھر ہے۔
تاریخی اعتبار سے خانہ ٔکعبہ کی تعمیر 10 مرتبہ ہوئی ہے۔ سب سے پہلےحضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق سے دو ہزار سال قبل کرہ ارض پر بیت المعمور کے عین نیچے خانۂ کعبہ فِرِشتوں نے تعمیر کیا۔
دوسری مرتبہ حضرت آدم علیہ السلام نےحضرت جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام کی نشاندہی کے مطابق خانۂ کعبہ کی تعمیر فرمائی۔
خانہ کعبہ کوتیسری بار حضرت شیث بن آدم علیہم السلام نےمٹی اور پتھرسے تعمیر فرمایا۔بعض تواریخ کے مطابق انہوں نے صرف خانہ کعبہ کی مرمت کا کام کیا تھا۔
خانہ کعبہ کی چوتھی تعمیر طوفانِ نوح کے بعدپھراُسی بنیاد پر حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے سرانجام دی۔ جس کا ذکر سورۂ بقرہ کی آیت127 میں فرمایا گیاہے۔
خانہ کعبہ کو پانچویں بار قوم عمالقہ اورچھٹی مرتبہ قبیلہ جرہم نے تعمیر کیا۔ مگر ان تعمیرات کی زیادہ تفصیل موجود نہیں۔پھر ساتویں تعمیر کعبہ رسول اللہ ﷺ کے نسب میں پانچویں پشت پر حضرت قُصَی بن کِلاب نے فرمائی اور اَز سرنو بے مثال عمارت بنائی۔
آگ لگنے یا سیلاب کی وجہ سے خانہ کعبہ کی دیواریں کمزور ہوگئیں تو قریش مکہ نے اِسے دوبارہ تعمیر کیاجس میں حضور اکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم بھی شریک ہوئے اور اپنے دست مبارک سے حجر اسود نصب فرمایا۔
حدیث مبارکہ کے مطابق حلال سرمایہ کم پڑنے کے باعث قریش کی تعمیر میں حطیم کو شامل نہیں کیا گیا تھا۔ خانہ کعبہ کی نویں تعمیر یزیدی فوج کی سَنگ باری سےاللہ کے گھر کی دیواریں شِکستہ ہونے پرحضرت عبداللہ بن زبیررضی اللہ تعالٰی عنہ نے حطیم کو شامل کر کے بنیادِ ابراہیمی پر نئے سِرے سےفرمائی مگر انکی شہادت کے بعد حجاج بن یوسف نےخانہ کعبہ کو مسمار کر کے 74ہجری میں پھرسے قریش والی تعمیر کے مطابق بنادیا۔
بعدازاں 1040 ہجری میںسلطنتِ عثمانیہ کےسلطان مراد بن احمد خان نے حجر اسود والے رُکن کے علاوہ ساری عمارت کو بنیادِقریش کے مطابق تعمیر کیا۔
لہٰذاخانۂ کعبہ کی موجودہ عمارت کم وبیش 407 سال پرانی ہے ۔ خانہ کعبہ کی مرمت و دیکھ بھال اور مسجد حرام کی توسیع کا کام مسلمان حکمرانوں کی جانب سے ہر دور میں کروایا جاتا رہا ہے۔
حال ہی میں سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیزکی ہدایت پر خانہ کعبہ میں اصلاح و مرمت کا کام مکمل کیا گیا ہے۔ جس میں خانہ کعبہ کی چھت پر سنگ مر مر کی ٹائلز لگائی گئیں۔
بارش کے پانی کے رساؤ سے خانہ کعبہ کی عمارت کو زیادہ سے زیادہ محفوظ رکھنے کے لیے خصوصی سسٹم لگایا گیا ہے۔ خانہ کعبہ کی چھت اور ستونوں کی لکڑی میں پیدا ہونے والی کمزوری کو دور کیا گیا ہے۔
دروازے کی بھی مرمت کی گئی ہے۔ اور اندرونی سیڑھی کے دروازے اور میزا ب پر بھی کام کیا گیا ہے۔ یہ تمام کام جدید ترین ٹیکنالوجی کی مدد سے عالمی معیار کے مطابق انجام دیے گئے۔
اس سے پہلے آل سعود کی حکومت کے قیام سے قبل پیش آنے والے بعض واقعات سے خانہ کعبہ کو نقصان پہنچا تھا۔ سنہ 1915 کے دوران الحسین بن علی اور سلطنت عثمانیہ کے درمیان جنگ کے دوران بعض گولے خانہ کعبہ پر گرے تھے جن سے اس میں آگ لگ گئی تھی۔
اس واقعہ سے دو سال قبل غسل کعبہ کی وجہ سے دراڑیں پڑ گئی تھیں، اور سیلاب کا پانی خانہ کعبہ کے اندر چلا گیا تھا۔بعد ازاںخانہ کعبہ کا دروازہ پہلی بار1944 میں شاہ عبدالعزیز کے دور میں تبدیل کیا گیا جو المونیم سے بنایا گیا تھاجس پر چاندی کے پرت اور سونے کا پانی چڑھایا گیا تھا۔
پھرشاہ سعود بن عبدالعزیز نے 1957 میں خانہ کعبہ کی اصلاح و مرمت کا حکم دیا تھا۔جس کے بعدشاہ خالد بن عبدالعزیز نے خانہ کعبہ میں محدود نوعیت کی ترمیم کرائی۔
انہوں نے 1977 میںباب کعبہ تبدیل کرایا تھا، جس کا ڈیزائن مصری انجینئر منیر الجندی نے تیار کیا تھا۔ ان دنوں جو دروازہ لگا ہوا ہے، وہ شاہ خالد ہی کا بنوایا ہوا ہے۔
خانہ کعبہ کے دروازے میں 280 کلو گرام سونا استعمال کیا گیا تھا۔ خانہ کعبہ کے دروازے کا ڈیزائن اس انداز سے بنایا گیاہے کہ غلاف کعبہ پر ہونیوالی کڑھائی اور دروازے کی شکل میں ایک خاص قسم کی مناسبت نظر آئے۔
شاہ فہد بن عبد العزیز کے مسجد حرام کے عظیم الشان توسیعی منصوبے کے دوران1995 میں خانہ کعبہ کی دیواروں کی جدید خطوط پر مرمت و دیکھ بھال کا کام کیا گیا۔
پھر 1996 میں خانہ کعبہ کے اندرونی حصے کی مکمل ترمیم ہوئی۔ چھت، تینوں ستونوں اور داخلی دیواروں، فرش، اندرونی زینے، میزاب رحمت اور حجر اسماعیل کی دیوار کو بھی ترمیم میں شامل کیا گیا تھا۔ ترمیم کا یہ کام 13 نومبر 1996 کو مکمل ہوا ۔












