Friday , 24 July , 2026
  • Login
پاک ترک نیوز
  • Homepage
  • Latest
  • Pakistan
  • Turkey
  • World
  • game
  • Economy
  • Columns/Blogs
  • Technology
  • Education and health
No Result
View All Result
  • Homepage
  • Latest
  • Pakistan
  • Turkey
  • World
  • game
  • Economy
  • Columns/Blogs
  • Technology
  • Education and health
No Result
View All Result
پاک ترک نیوز
No Result
View All Result
Home Latest

غیر قانونی طریقے سے یورپ جانے والوں پاکستانیوں کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ

7 months ago
A A
The number of Pakistanis traveling to Europe illegally has increased at an alarming rate.
Share on FacebookWhatsApp

از: سہیل شہریار

پچھلے سالوں کی طرح گذشتہ برس 2025 میں بھی پیسہ کمانے اور اپنے بہتر زندگی کے خوابوں کو سچ کرنے کے لئے انسانی سمگلروں کے ہتھے چڑھ کر ہزاروں پاکستانی نوجوان گھروں سے نکلے مگران میں سے بیشتر وسطی بحیرہ روم کے راستے یورپ تک پہنچنے سے پہلے ہی یا تو واپس دھکیل دیے گئے یا سمندر کی بے رحم لہروں میں ہمیشہ کے لیے گم ہو گئے۔
سال بھر کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ لیبیا اور مراکش سے یورپ کی طرف جانے والا یہ راستہ آج بھی نقل مکانی کرنے والوں کے لیے دنیا کے خطرناک ترین راستوں میں شامل ہے۔ اور اس خطرے کا سب سے زیادہ شکار افریقی اور پاکستانی شہری بن رہے ہیں۔
انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن (آئی او ایم) کی سالانہ رپورٹ بتاتی ہے کہ جنوری سے دسمبر 2025 کے دوران 26 ہزار 940 پناہ گزینوں کو وسطی بحیرہ روم میں روک کر لیبیا واپس بھیجا گیا۔ ان اعدادوشمار سے ترک وطن کے بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی ہوتی ہے۔ کیونکہ سال 2023 میں یہ تعداد 17 ہزار 190 تھی، جو 2024 میں بڑھ کر 21 ہزار 762 ہو گئی اور 2025 میں اس نےنیا ریکارڈ بنایا ہے۔ سال 2025 میں پکڑے جانے والوں میں 23 ہزار 380 مرد، 2 ہزار 379 خواتین اور 973 بچے شامل تھے۔ خواتین اور بچوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ یہ سفر اب صرف نوجوان مردوں کا نہیں رہا بلکہ پورے خاندان اس خطرے کو مول لینے کے لیے تیار ہو رہے ہیں۔


اگرچہ زیادہ تر رپورٹس میں قومیتوں کی تفصیل درج نہیں ہوتی مگرآئی او ایم اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی شہری نقل مکانی کے لئے جان جوکھوں میں ڈالنے والے اس سفر پرنکلنے والوں میں سب سے نمایاںرہے ہیں۔2025 میں واپس بھیجے گئے افراد میں پانچ سے چھ ہزار پاکستانی شہری شامل تھے۔ اس سے پہلے 2023 میں یہ تعداد تقریباً ساڑھے تین ہزارسے چار ہزار اور 2024 میں چار ہزار سے زائدتھی۔ یوں صرف تین برسوں میں کم از کم 12 سے 15 ہزار پاکستانی براہِ راست اس خطرناک راستے سے واپس موڑےجا چکے ہیں۔
اسپینش این جی او واکنگ بارڈرز کے مطابق2024 ء میں بذ‌ریعہ کشتی اسپین پہنچنے کی کوشش میں ہلاک ہونے والوں کی کُل تعداد 10,457 تھی۔ یعنی یومیہ 30 افراد اسپین پہنچنے کی کوشش میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔سال 2024 اور 2025 میں اگرچہ بڑے سانحات کم ہوئے مگر چھوٹے حادثات میں پاکستانی شہریوں کی ہلاکتوں کا سلسلہ رکا نہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2023 میں 962 اموات اور ایک ہزار 536 افراد لاپتہ ہوئے، جبکہ 2024 میں 665 اموات اور ایک ہزار 34 افراد لاپتہ رپورٹ ہوئے۔ ان میں سے بہت سوں کی شناخت آج تک ممکن نہیں ہو سکی۔
آئی او ایم بارہا کہہ چکی ہے کہ وہ لیبیا کو پناہ گزینوں کے لیے محفوظ ملک نہیں سمجھتی۔ اس کے باوجود ہزاروں افراد کو سمندر سے واپس وہیں بھیجا جا رہا ہے جہاں حراستی مراکز میں بدسلوکی کی شکایات عام ہیں۔ یوں سمندر سے بچ جانے والے بہت سے لوگ زمین پر ایک اور آزمائش کا سامنا کرتے ہیں۔

Tags: #europepakistani
ShareSend

Related Posts

Decline recorded in the number of Pakistanis traveling to Europe illegally.
Latest

غیر قانونی طور پر یورپ جانے والے پاکستانیوں کی تعداد میں کمی ریکارڈ

July 8, 2026
Europe in the grip of fire! Heat dome strikes; red alert issued.
Latest

یورپ آگ کی لپیٹ میں! ہیٹ ڈوم کا حملہ، ریڈ الرٹ جاری

4 July , 2026
Why don't people in Europe install AC
Latest

یورپ میں لوگ اے سی کیوں نہیں لگاتے

1 July , 2026
Extreme heat in Europe, death toll rises to over 1,300
The 3 most important

یورپ میں شدید گرمی ،اموات کی تعداد 1300سے بڑھ گئی

June 30, 2026
How many lakhs of rupees does every Pakistani owe
Latest

ہر پاکستانی کتنے لاکھ روپے کا مقروض ؟

5 June , 2026
The journey from employment to prison, thousands of Pakistanis are imprisoned abroad
Latest

روزگار سے جیل تک کا سفر ،ہزاروں پاکستانی بیرون ملک جیلوں میں بند

10 April , 2026
Next Post
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو صدارت سے ہٹائے جانے کا خدشہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو صدارت سے ہٹائے جانے کا خدشہ

Read this too

Petitions against Sohail Afridi scheduled for hearing in Constitutional Court

آئینی عدالت میں سہیل آفریدی کےخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر

24 July , 2026
Messi's decision to retire from international football

میسی کا بین الاقوامی فٹبال سے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ

24 July , 2026
Security forces' 'Operation Al-Azm' in Balochistan 4 terrorists killed.

سکیورٹی فورسز کا بلوچستان میں آپریشن العزم،4دہشت گرد ہلاک

24 July , 2026
The constitutional court will hear all NAB cases, including those regarding bail and the suspension of sentences Supreme Court.

ضمانت اور سزا معطلی سمیت نیب کے تمام مقدمات آئینی عدالت سنے گی،سپریم کورٹ

24 July , 2026
Process initiated to cancel NOCs for Rawalpindi Ring Road service areas.

راولپنڈی رنگ روڈ سروس ایریاز کے این او سیز منسوخ کرنے کی کارروائی شروع

24 July , 2026

About Us

"Pak Turk News is an unbiased Urdu news website committed to delivering timely and authentic reports, analyses, and feature articles on important news from Pakistan, Turkey, and around the world to its Urdu-speaking readers. We offer a new perspective on Pak-Turk relations, global politics, economy, culture, and social issues, enabling readers to stay informed, conscious, and influential.

  • Homepage
  • Pakistan
  • Latest
  • Turkish
  • World
  • About Us
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Declaration of non-attachment
  • Contact

Follow us on social media

Facebook Twitter Instagram Youtube

Copyright 2026 © All publishing rights reserved by Pak Turk News. Reproduction without permission is prohibited.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Homepage
  • Latest
  • Pakistan
  • Turkey
  • World
  • game
  • Economy
  • Columns/Blogs
  • Technology
  • Education and health

Copyright 2026 © All publishing rights reserved by Pak Turk News. Reproduction without permission is prohibited.

English
Urdu