برسلز ( پاک ترک نیوز) یورپ میں ایک خاموش بغاوت شروع ہو چکی ہے اور اس بار میدان جنگ کوئی سرحد نہیں بلکہ سپر مارکیٹوں کی شیلفیں ہیں۔ غزہ کی تباہی کی تصاویر نے عام مزدور کو ایسا جھنجھوڑا کہ اس نے اپنے ہاتھوں سے اسرائیلی مصنوعات بیچنے سے انکار کر دیا اور یہی لمحہ ایک عالمی معاشی طوفان کی شروعات بن گیا۔
آئرلینڈ کے ایک عام کیشیئر کا یہ اقدام دیکھتے ہی دیکھتے عوامی احتجاج میں بدل گیا۔ معطلی ہوئی، دباؤ بڑھا اور پھر وہی ملازم بحال بھی ہو گیا۔ لیکن کہانی یہیں ختم نہیں ہوئی۔ برطانیہ، ناروے اور اٹلی تک مزدور یونینز نے اعلان کر دیا کہ کارکنوں کو اسرائیلی اشیاء ہینڈل کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
ریٹیل چینز نے شیلفیں خالی کرنا شروع کر دیں۔ طلبہ سڑکوں پر نکل آئے۔ پارلیمانوں میں قراردادیں آنے لگیں اور یورپ کی حکومتیں بھی دباؤ میں آ گئیں۔ سلووینیا اور اسپین نے غیر قانونی بستیوں کی مصنوعات پر پابندی لگا کر ایک نئی معاشی جنگ کا آغاز کر دیا ہے۔
یہ سب کچھ ایک منظم عالمی تحریک BDS Movement کے دباؤ کا نتیجہ بتایا جا رہا ہے، جو بینکوں، یونیورسٹیوں اور حکومتوں کو اسرائیل سے تعلقات ختم کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔
لیکن دوسری طرف ایک زبردست جوابی حملہ بھی جاری ہے۔ طاقتور لابیاں، خفیہ قانونی ٹیمیں اور پارلیمانی قراردادیں اس بائیکاٹ کو روکنے کے لیے میدان میں آ چکی ہیں۔ لیک ہونے والی دستاویزات نے تو یہ دعویٰ بھی کر دیا کہ اس تحریک کی نگرانی کے لیے خصوصی پروگرام چلایا گیا۔
سوال یہ ہے: کیا یہ صرف بائیکاٹ ہے؟ یا یورپ میں اسرائیل کے خلاف ایک مکمل معاشی محاذ کھل چکا ہے؟ اور سب سے بڑا سوال۔ کیا یہ طوفان پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے گا؟












