لاہور ( پاک ترک نیوز) دنیا بھر کی نظریں اس وقت مشرق وسطیٰ کی جانب مرکوز ہیں، جہاں ایک نئی عالمی فوجی ہلچل کی اطلاعات آ رہی ہیں۔ چینی بحریہ کے جنگی جہازوں نے ایرانی پانیوں کی طرف اپنا سفر شروع کر دیا ہے، جس کے بعد عالمی سطح پر تشویش بڑھ گئی ہے۔ چینی نیوی کی ٹائپ 055 اور 052D کلاس کے چند ہیوی ڈسٹرائرز ہینان نیول بیس سے روانہ ہو چکے ہیں اور یہ ایرانی حدود کے قریب پہنچنے والے ہیں۔
چین، روس اور ایران کے درمیان ایک مشترکہ فوجی مشقیں اتوار کے روز ہرمز کے تنگ سمندر کے قریب ہونے جا رہی ہیں۔ اس مشق کے دوران ان تینوں ممالک کی فوجیں اپنی طاقت کا مظاہرہ کریں گی، اور اس کے ساتھ ہی عالمی سطح پر کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گا۔
دوسری جانب، امریکا کی فضائیہ کی نقل و حرکت بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ 10 بوئنگ C-17A گلوب ماسٹر 3 اور 2 لاک ہیڈ C-5M گلیکسی طیارے یورپ اور مشرق وسطیٰ میں فوجی آپریشنز جاری رکھنے کے لیے سرگرم ہیں۔ یہ طیارے دراصل امریکہ کے بمبار طیاروں کے لیے ایندھن فراہم کر رہے ہیں، جو اڑتے ہوئے بحر الکاہل عبور کر کے ایران کے قریب پہنچنے والے ہیں۔
ہوا بازی کے ماہرین کے مطابق، یہ بمبار طیارے ڈیگو گارسیا پر لینڈ کر سکتے ہیں، جو ایران سے تقریباً 2,500 میل دور واقع ہے، تاکہ وہاں موجود دو B-52 بمبار طیاروں کے ساتھ مل سکیں، جو غالباً بریکسل ایئر فورس بیس سے راتوں رات روانہ ہو چکے ہیں۔












