واشنگٹن : (پاک ترک نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں واضح کیا ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ براہِ راست ٹکراؤ کا خواہاں نہیں، تاہم اپنے بنیادی مؤقف سے پیچھے ہٹنے کا بھی کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔
واشنگٹن میں کینیڈی سینٹر کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی بحریہ کے طاقتور جنگی جہاز خطے کی سمت بڑھ رہے ہیں، لیکن امید ہے کہ حالات اس نہج تک نہیں پہنچیں گے کہ انہیں عملی کارروائی کے لیے استعمال کرنا پڑے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کے معاملے پر امریکا کے دو مطالبات بالکل واضح اور ناقابلِ بحث ہیں: ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا اور ملک میں احتجاج کرنے والوں کے خلاف سزاؤں اور تشدد کا خاتمہ۔
صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران میں مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال جاری رہا اور انسانی جانیں ضائع ہوتی رہیں تو امریکا خود کو مداخلت سے روک نہیں سکے گا۔
انہوں نے ایک بار پھر اس مؤقف کو دہرایا کہ امریکا سفارت کاری کو ترجیح دیتا ہے، مگر قومی سلامتی اور انسانی حقوق جیسے معاملات پر کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔
ان کے مطابق ایران کو عالمی اصولوں اور ذمہ داریوں کے مطابق رویہ اختیار کرنا ہوگا۔اسی گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ نے کیوبا سے متعلق امریکی پالیسی کا بھی دفاع کیا اور سخت لہجے میں کہا کہ موجودہ طرزِ حکمرانی کے ساتھ کیوبا کا مستقبل محفوظ نہیں۔
ان کے بقول کیوبا ایک زوال پذیر ریاست بن چکا ہے اور اسے اپنے نظام پر سنجیدگی سے نظرِ ثانی کرنا ہوگی۔












