دوحہ : (پاک ترک نیوز)امریکا اور برطانیہ نے قطر میں واقع اپنے اہم فوجی اڈے العدید ایئر بیس سے کچھ فوجی اور عملہ واپس بلانے کا عمل شروع کر دیا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران میں حکومت مخالف مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن پر ممکنہ کارروائی پر غور کر رہے ہیں۔
امریکی حکام نے امریکی میڈیا کو بتایا کہ یہ جزوی انخلا احتیاطی اقدام کے طور پر کیا جا رہا ہے۔ بی بی سی کے مطابق برطانوی فوجی عملے کا ایک حصہ بھی قطر سے واپس بلایا جا رہا ہے۔
قطری حکومت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے اٹھائے جانے والے یہ اقدامات خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ہیں۔ قطر نے یقین دہانی کرائی ہے کہ شہریوں اور حساس تنصیبات کی حفاظت اس کی اولین ترجیح ہے۔
العدید ایئر بیس مشرقِ وسطیٰ میں امریکا کا سب سے بڑا فوجی اڈہ ہے، جہاں تقریباً 10 ہزار امریکی اور 100 برطانوی اہلکار تعینات ہیں، تاہم یہ واضح نہیں کہ کتنے افراد کو واپس بلایا جا رہا ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے حال ہی میں خبردار کیا تھا کہ اگر ایران میں مظاہرین کو پھانسیاں دی گئیں تو امریکا سخت ردعمل دے گا۔
بعد ازاں انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں قابلِ اعتماد ذرائع سے اطلاع ملی ہے کہ ایران میں ہلاکتوں میں کمی آئی ہے اور فی الحال پھانسیوں کا کوئی منصوبہ نہیں۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر واشنگٹن نے حملے کی غلطی دہرائی تو نتائج بھی ویسے ہی ہوں گے۔
ایران نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی امریکی کارروائی کی صورت میں خطے میں موجود امریکی اور اسرائیلی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
یورپ کے کئی ممالک بشمول اٹلی اور پولینڈ نے اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں، جبکہ جرمنی نے تہران کیلئے فضائی آپریشن کو خطرناک قرار دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق دسمبر کے آخر میں شروع ہونے والے یہ مظاہرے 1979 کے انقلاب کے بعد ایران کیلئے سب سے بڑا اندرونی چیلنج بن چکے ہیں۔












